ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

دنیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

عالمی معیشت میں توقع سے زیادہ بہتری آرہی ہے: آئی ایم ایف

شیئر کیجیئے

بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے عالمی معیشت کے بارے میں اپنی تازہ ترین رائے کا اظہار کرتے ہوئے بدھ کے روز کہا ہے کہ دنیا بھر کے مالی حالات میں توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بہتری آرہی ہے۔

آئی ایم ایف کے ماہرین اقتصادیات نے کہا تھا کہ عالمی تجارت میں سست روی کے باعث اس سال بھی عالمی اقتصادی پیداوار 1.4 فی صد تک کمی واقع ہوگی۔لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت 2010ء میں ڈھائی فی صدتک نمو پاسکتی ہے جو اپریل کے آئی ایم ایف کے اندازے سے 1.9 فی صد زیادہ ہے۔

تاہم آئی ایم ایف کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اقتصادی بحالی کا دارومدار حکومتی مداخلت پر ہوگا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو2010ءتک امدادی اقدامات جاری رکھنے کی ضرورت ہے جن میں اخراجات میں اضافہ اور ٹیکسوں میں مزید کٹوتیاں شامل ہیں۔

آئی ایم ایف نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ بہت سے بینک نقصان دہ قرضوں کے باعث ابھی تک مسائل کا شکار ہیں اور دنیا بھر میں گھروں کی قیمتیں ابھی تک انتہائی کم تر سطح پر ہیں۔

بہت سے اقتصادی ماہرین مکانوں کی قیمتوں میں کمی کو عالمی مالیاتی بحران کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں، خاص طورپر امریکہ میں، جہاں بہت سے بینکوں نے گھروں کے نقصان دہ قرضوں پر سرمایہ کاری کی تھی۔

آئی ایم ایف اس نظر ثانی شدہ اندازے میں کہا گیا ہے کہ امریکی معیشت میں، جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، اس سال 2.6 فی صد کمی ہوگی اور 2010ءمیں اس میں ایک فی صد کے آٹھویں حصے کے مساوی اضافہ ہوگا۔ دونوں پیش گوئیاں اس سے قدرے بہتر ہیں جو آئی ایم ایف نے اپریل کی اپنی رپورٹ میں کی تھیں۔

آئی ایم ایف کے نئے اندازے میں دو ابھرتی ہوئی معیشتوں، چین اور بھارت کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ وہ ابتدائی اندازے سے زیادہ تیزی سے ترقی کریں گی۔چین کی معیشت کے بارے میں اب یہ اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس میں اس سال 7.5 فی صد جب کہ بھارت کے بارے میں توقع ہے کہ اس کی معیشت 5.4 کی رفتارسے بڑھے گی۔