امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اسلام امن اور انصاف کا عظیم مذہب ہے لیکن القاعدہ اور اس کے ساتھیوں نے اس کے نام پر کئی سالوں تک مختلف قومیت کے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا ہے۔
دورہ روس کے دوران منگل کے روز ماسکو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ القاعدہ کے ہاتھوں پر صرف امریکی اور روسیوں کا ہی خون نہیں بلکہ کئی بے گناہ مسلمانوں کا بھی خون ہواہے جنہیں عمان، بالی، اسلام آباد، کابل اور دوسرے شہروں میں قتل کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے انتہا پسند مزید بے گناہ لوگوں کو مارنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس تنظیم کو شکست دینے اور اس کا قلع قمع کرنے کا بھرپور عزم کررکھا ہے۔
صدر اوباما کے مطابق القاعدہ اپنی کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کو استعمال کررہا ہے جو خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قائم ہیں اورجہاں اس کے عسکریت پسندوں کو منظم ہونے اور تربیت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ان کا ملک نہ تو پاکستان اور افغانستان میں اپنے اڈے قائم کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی ان ملکوں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے بلکہ ان کے مطابق امریکہ روس سمیت بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر اسلام آباد اور کابل کو ان کی سیکورٹی مضبوط بنانے اور ترقی کرنے میں مدد دینے کا خواہاں ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ اور روس دونوں ہی پاکستان یا افغانستان میں طالبان کی حکمرانی نہیں دیکھنا چاہتے لہذا یہ ضروری ہے کہ سب مل کر کام کریں اور اجتماعی کوششوں سے وسطی ایشیا کے لیے ایک محفوظ مستقبل کو یقینی بنائیں۔ انھوں نے ایک معاہدے کے تحت امریکہ کو افغانستان میں اپنے فوجیوں کی مدد کے لیے روس کی طرف سے اس کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا۔
صدر اواما نے امریکہ اور روس کے درمیان پائیدار اور مضبوط پارٹنر شپ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرد جنگ کے حریف ملکوں کے درمیان ایسا تعلق استوار کرنا اگرچہ آسان نہیں ہوگا تاہم امریکی صدر کے بقول دونوں ملکوں کے عوام اگر باہمی مفادات کی نشاندہی کریں تو واشنگٹن اور ماسکو یقینا دیرپا تعاون کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کا عزم رکھتا ہے اور دنیا کو اس کے ہتھیاروں سے پاک دیکھنا چاہتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں روس سمیت دنیا بھر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
صدر اوباما نے کہا کہ خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ امریکہ اور روس دونوں ہی کے مفاد میں نہیں اور ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ ایران اور شمالی کوریا کی کوششوں کی مخالفت کی جانی چاہیے۔