ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

دنیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

اقوامِ متحدہ: اسرائیل اور فلسطینیوں کے جنگی جرائم پر رپورٹ پربحث شروع

شیئر کیجیئے

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ سے عالمی ادارے کی رپورٹ پر بحث شروع کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ  گذشتہ دسمبر میں غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کے دوران   فلسطینی شدت پسندوں اور اسرائیلی فوج کی طرف سے مبینہ جنگی جرائم سرزد ہوئے تھے۔

عرب اور غیر جانب دار ممالک کی طرف سے قرارداد پیش کی گئی ہے جِس میں دونوں طرفین سے کہا گیا ہے کہ تین ماہ کے اندر اندر مبینہ جنگی جرائم کے بارے میں مستند چھان بین کرائیں۔

یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق  کونسل کی طرف سے تیار کی گئی ہے جِس میں کہا گیا ہے کہ دونوں طرفین نے سنگین  نوعیت کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون  کی خلاف ورزیاں کیں۔ لیکن کونسل نے اسرائیلی اقدامات کے خلاف سخت ترین نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کی خاطراور حماس کی طرف سے راکٹ حملے بند کرنے کی کارروائی کے دوران  اسرائیل نے  غلط تناسب سے طاقت کا استعمال کیا۔

اسرائیل نے رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے  اور اقوامِ متحدہ کے حقائق معلوم کرنے کے مشن سے تعاون کرنے سے انکار کیا ہےجس کی سربراہی جنوبی افریقہ کے قانون داں رچرڈ گولڈ سٹون نے کی تھی۔

اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر  گیبریلا شیلو نے اپنی حکومت کے موقف  کا اعادہ کرتے ہوئے کہا  کہ اسرائیل نے اپنے دفاع میں کارروائی کر رہا تھا ۔  اُنھوں نے کمیشن کی رپورٹ کو یک طرفہ قرار دیااور انسانی حقوق کونسل  کو اسرائیل کے خلاف  تعصب برتنے  کا الزام عائد کیا۔

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ آج کی بحث کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بجائے اِس بارے میں بحث کرنے کے کہ کس طرح اِن دہشت گرد تنظیموں کو روکا جائے جو دیدہ و دانستہ طور پر عام شہریوں کو ہدف بناتے ہیں اِس ادارے نے دہشت گردی کا شمار ہونے والے اسرائیلی عوام کے خلاف ایک اور مہم کا آغاز  کر دیا ہے۔

فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے گولڈ سٹون رپورٹ میں اِن الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے جو حماس کی جانب سے ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں ہیں۔  تاہم،  اُنھوں نے کہا کہ اُس کی  کارروائیوں اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کارروئیوں  کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

اُن کے الفاظ میں ‘جب آپ ووٹ دینے کو تیار ہوں تو میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ ہمارے بچوں کو یاد رکھیں جو اب بھی اُن تکلیف دہ زخمیوں اور تباہی کا شکار ہیں جو قابض طاقت کے ہاتھوں عمل میں آئی ہے۔  وہ اب بھی اپنے گھروں پر بمباری کی وجہ سے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔
 

رائے اور تبصرہ (0)

اپنی رائے ارسال کیجئے

* لازمی



آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس