عراق کے طول و عرض میں جمعرات کے دن بموں کے متعدد حملوں میں 40 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ اور اس طرح یہ دن 30جون کو عراقی شہروں سے امریکی فوجوں کی واپسی کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز دن ثابت ہوا۔
عہدے داروں نے کہا ہے شمال کے شہر تل افار میں دو خُود کُش حملہ آوروں نے مربوط حملے کرکے کم سے کم 35 لوگوں کو ہلاک اور مزید 62 کو زخمی کردیا۔
حکام نے کہا ہے کہ ایک حملہ آور نے، جو پولیس کی وردی میں تھا، ایک پولیس افسر کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جب کسی نے آ کر دروازہ کھولا تو اُس نے گھر کی دہلیز ہی میں خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ اس طرح پولیس افسر، اُس کی بیوی اور ایک بچّہ، تینوں ہلاک ہوگئے۔
دوسرے حملہ آور نے چند ہی منٹ بعد خود کو اُن لوگوں کے ہجوم میں گھس کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا، جو پہلے دھماکے کے بعد مدد کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔
اور بغداد میں پولیس نے کہا ہے کہ صدر سٹی میں ایک بازار کے قریب دو بموں کے دھماکوں میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور 20زخمی ہوگئے۔