’جوہری طاقت والے ملک کے طور پر ایران علاقے میں غیر استحکام کا باعث اور خطے میں ہتھیاروں کی علاقائی دوڑ کا سبب بنے گا‘
امریکہ کے چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک ملن کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری اسلحے کے حصول سے باز رکھنے اور اُس کی ایٹمی تنصیبات پر فوجی حملے روکنے کے حوالے سے وقت بہت تھوڑا رہ گیاہے۔
چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک ملن نے بتایا کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے بہترین راستا مکالمہ اور مذاکرات کا ہے۔ لیکن اُن کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جس میں فوجی راستا بھی شامل ہے، سارے دروازے کھلے ہیں۔
ایڈمرل ملن کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیش بندی کے طور پر اُن کو ایران کی جوہری تنصیبات پر فوجی حملے کی فکردرپیش ہے، جس طرح کہ اسرائیل کی سوچ کے بارے میں خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس طرح کے اقدام سے غیر ارادی اور ممکنہ خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ کئی ایک اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے میں ایک سے تین سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
ایڈمرل ملن نے اِس بات کا بھی اعادہ کیا کہ جوہری طاقت والے ملک کے طور پر ایران علاقے میں غیر استحکام کا باعث اور خطے میں ہتھیاروں کی علاقائی دوڑ کا سبب بنے گا۔ اُنھوں نے اِس بات کی وضاحت نہیں کی کہ امریکہ ایران کے خلاف فوجی اقدام کا استعمال کب کر سکتا ہے یا اِس سے دراصل کیا مراد ہے۔
امریکہ اوراُس کے مغربی اتحادیوں کا خیال ہے کہ فوجی ہتھیار وں کا حصول ایران کے جوہری پروگرام کا مقصد ہو سکتا ہے۔ ایران ایک عرصے سےدعویٰ کرتا رہا ہے کہ اُس کے ایٹمی پروگرام کا مقصد بجلی پیدا کرنا ہے۔
یورینم کی افزودگی کو روکنے سے انکار پر اب تک ایران کے خلاف اقوإمِ متحدہ کی طرف سے تین بار پابندیاں لگ چکی ہیں، جس کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔