ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

دنیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

جی 8 کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی پر ‘تاریخی‘ اتفاقِ رائے

فوٹو AP

اٹلی کے شہر لاکویلا میں ہونے والی آٹھ ترقی یافتہ ممالک کی کانفرنس

شیئر کیجیئے

اجلاس کے شرکا فضا سے کاربن گیسوں کو جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کا ایک ایسا عالمی ادارہ قائم کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں، جس کا ہیڈ کوارٹر آسٹریلیا میں ہوگا

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملک اور ترقی پذیر ملک اس بارے میں ایک تاریخی اتفاقِ رائے تک پہنچ گئے ہیں کہ عالمی درجہٴ حرارت سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر نے کہا ہے کہ 17 ملکوں کے لیڈروں نے اٹلی کے شہر لا کوئیلا میں اپنے سربراہی اجلاس کے دوران آب وہوا میں تبدیلیوں کے مسئلے پر دسمبر میں کوپن ہیگن میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ اجلاس کے شرکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ آب وہوا میں تبدیلیوں کے مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں میں صنعتی ملکوں کو لازماً قیادت کرنی چاہیئے اور ان کوششوں میں ترقی پذیر ملکوں کی مدد کرنی چاہیئے۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم کیوِن رڈ نے کہا ہے کہ اجلاس کے شرکا فضا سے کاربن گیسوں کو جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کا ایک ایسا عالمی ادارہ قائم کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں، جس کا ہیڈ کوارٹر اُن کے ملک میں ہوگا۔

امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ اس سمجھوتے میں ترقی پذیر ملکوں نے پہلی بار ایسے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے جن کے نتیجے میں اُن کاربن گیسوں کے اخراج میں موثر کمی آئے گی جو عالمی درجہٴ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

اس سے پہلے سربراہی اجلاس میں شریک صنعتی ملکوں کے گروپ یا جی 8 اور برازیل، چین، بھارت، میکسکو اور جنوبی افریقہ کے رہنما عالمی تجارت کے بارے میں کھٹائى میں پڑے ہوئے دوحہ مذاکرات کو اگلے سال تک مکمل کرنے کی ضرورت پر رضا مند ہوگئے تھے۔
 
بدھ  کے روز جی 8 کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ایٹمی اسلحہ کے مشتبہ پروگرام کو ترک کرنے سے ایران کے انکار پر لیڈروں کا پیمانہٴ صبر لب ریز ہوتا جارہا ہے۔ بیان میں صدارتی انتخاب کے بعد ایران میں تشدّد اور صحافیوں کی گرفتاریوں کی مذمّت بھی کی گئى ہے۔