آسٹریلیا کے مشرقی حصوں میں بارشیں اپنی سالانہ اوسط کے مقابلے میں کم ہوسکتی ہے جس سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوسکتا ہے
آب وہوا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کا قدرتی چکر جسے ایل نینو کہا جاتا ہے، نمودار ہوناشروع ہوگیا ہے جس کے تحت آسٹریلیا اورانڈونیشیا میں مزید خشک سالی اور جنگلات میں قدرتی طور پربھڑکنے والی آگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
آسٹریلیا کے موسمیاتی بیورو نے خبر دی ہے کہ ملک کے کاشت کاروں کے لیے یہ ایک بری خبر ہوسکتی ہے کیونکہ یہ صورت حال فصلوں کی کٹائی کے موسم میں سامنے آرہی ہے۔
ایل نینو کا یہ موسمی چکر ہر دو سے سات سال میں ظاہر ہوتا ہے اور اسے سائنس دان آب وہوا کے قدرتی سلسلے کا حصہ سمجھتے ہیں۔
یہ سلسلہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب مشرقی بحرالکاہل کا پانی گرم ہوجاتا ہے۔ بخارات کی حرکت اور مشرق کی طرف گرم تر ہواؤں کے چلنے کے نتیجے میں مشرقی بحرالکاہل کے علاقے میں آب وہوا خشک تر ہوجاتی ہے جو ایشیا اور بحرالکاہل کے علاقے کے زیادہ تر حصوں کو متاثر کرتی ہے۔
آسٹریلیا میں براعظم کے مشرقی اور سب سے زیادہ گنجان آباد حصوں میں بارشیں اپنی سالانہ اوسط کے مقابلے میں کم ہوسکتی ہے اور دن کے وقت درجہٴ حرارت میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوسکتا ہے۔
آسٹریلیا دنیا بھر میں گندم برآمد کرنے والا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ ان خشک موسمی حالات کی وجہ سے انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ساتھ ساتھ تھائی لینڈ پام آئل اور ربڑ کی پیداوار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
آسٹریلیا کے محکمہٴ موسمیات کے ایک سینیئر عہدے دار اینڈریو واٹ کنز کہتے ہیں کہ علامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایل نینو شروع ہوچکاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بحرِالکاہل میں سطحِ سمندر اور زیرِ آب بھی درجہٴ حرارت میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ ہمیں سمندری لہروں میں بھی تبدیلی اور اس کے ساتھ ساتھ بادلوں کے نظام میں بھی تبدیلی نظر آرہی ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ نہ صرف مشرقی آسٹریلیا میں بلکہ ایشیا کے بھی کچھ حصوں مثلا انڈونیشیا میں موسم سرما کے آخر اور موسم بہار میں درجہٴ حرارت معمول سے زیادہ ہوگا۔ اور معمول سے زیادہ خشک آب وہوا کے نتیجے میں جنگلات میں قدرتی طورپر لگنے والی آگ کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس مرحلے پر آب و ہوا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایل نینو درمیانے درجے کا ہوسکتا ہے لیکن اس بارے میں کوئی سرکاری اعلان ممکن ہے کہ کئی ماہ کے بعد ہو۔
1997ءاور 1998ءمیں آنے والے آخری سخت ترین ایل نینو کے باعث آسٹریلیا اور ایشیا میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور فصلوں، انفراسٹرکچر اور کانوں کوپہنچے والے نقصانات اربوں ڈالروں میں تھے۔ایشیا کے کچھ حصوں مثلاً ہانگ کانگ اور جنوبی چین میں اس کے باعث ریکارڈ بارشیں ہوئیں جو سیلابوں کا سبب بنیں۔
ایل نینو کے باعث بھارت میں مون سون بارشوں کا سلسلہ بھی متاثر ہوسکتا ہے جو اچھی فصلوں کے لیے بہت ضروری ہے۔اور ایل نینو کے نتیجے میں امریکہ کے کچھ حصوں میں موسم مزید نم آلود ہوسکتا ہے۔