ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

دنیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

وسط ایشیائی ریاستوں کو درپیش چیلنجز اور میسر مواقع

شیئر کیجیئے

 

وسط ایشیا کی پانچ سابق جمہوریتیں روز بروز اہم ہوتی جا رہی ہیں۔اب یہ سب آزاد ملک ہیں اور  اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور توانائی کے وسائل کی وجہ سے مغربی ملک روس اور چین کے لیے  بہت اہم ہیں۔
 
قزاقستان، ترکمانستان، ازبکستان، کرغزستان، اور تاجکستان،1991 میں   سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد آزاد ملکوں کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ تاریخی طور پر ان کے ثقافتی رشتے یونانی سلطنت، ایرانی تہذیب، اسلام کے دورِ عروج، ترکوں اور شاہراہِ ریشم کے شہروں سے ملتے ہیں ۔ آج کل یہ افغانستان تک رسائی کا وسیلہ ہیں۔وسط ایشیا کو ایک بار پھر مرکزی مقام حاصل ہو گیا ہے۔ ان ملکوں کے لیڈر بیک وقت روس، چین، امریکہ اور یورپ سب  کے ساتھ  تعلقات میں توازن قائم رکھنے کے پیچیدہ عمل میں مصروف ہیں۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے سینیئر فیلوایوان فیجن بائم (Evan Feigenbaum)  امریکی محکمۂ خارجہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وسط ایشیا کے ملکوں نے آزادی حاصل کر لی تو امریکہ کے ساتھ شراکت داری کے نئے امکانات پیدا ہوئے ۔ ان کا کہنا ہے ’’ ان ملکوں کے 1991 میں آزاد ہونے کے بعد وسط ایشیا میں امریکہ  کے   بنیادی مفادات یہ ہیں کہ ان کی خودمختاری اور آزادی کو مضبوط بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے ان کے ساتھ سفارتی، دفاعی، اقتصادی اور دوسرے اقسام کے تعلقات قائم کیے جائیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ آمد و رفت کے صرف ایک راستے پر ان  ملکوں کے انحصار کو ختم کیا جائے اور انہیں متبادل راستے اور مواقع فراہم کیے جائیں  اور سیکورٹی کے شعبے میں ان کے ساتھ تعلقات قائم کیے جائیں، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے، معاشرے میں آزادیوں کو فروغ دیا جائے، اچھے نظم و نسق اور معاشرے کے تمام طبقوں کو مواقع فراہم کیے جائیں اور علاقے میں توانائی کے وسائل کو ترقی دی جائے کیوں کہ معاشرے میں دولت اور خوشحالی کا انحصار انہیں چیزوں پر ہے۔‘‘
 
لیکن یوریشین (Eurasian)  ماہر پال گوبل (Paul Goble)  کہتے ہیں کہ وسط ایشیا کے ملکوں کے لیڈر  چین کے ساتھ بھی قریبی اقتصادی تعلقات قائم کر رہے ہیں۔  وہ کہتے ہیں ’’وسط ایشیا کے ممالک کسی تیسرے ملک میں جائے بغیر،   چین کے ساتھ تجارت کر سکتے ہیں۔ اس طرح چینی منڈیاں ان کے لیے زیادہ پُر کشش ہو جاتی ہیں۔ تا ہم چین اور وسط ایشیا کے درمیان تعلق  خاصا پیچیدہ ہے ۔ شاید سوویت یونین کے خاتمے پر کوئی اور ملک چین سے زیادہ ناخوش نہیں ہوا ہو گا۔ سوویت یونین کے خاتمے سے چین کے لیے سنکیانگ کے علاقے میں دشواریوں میں اضافے کا امکان ہے۔ سنکیانگ میں وسط ایشیا کی بہت سی نسلوں کے لوگ آباد ہیں اور چین اس علاقے میں عدم استحکام کے مسئلے پر پریشان ہے ۔‘‘
 
پال گوبل  کہتے ہیں کہ اس علاقے میں سوویت روس کی حکومت قائم رہ چکی ہے اور اس کے نتیجے میں اقتصادی اور سیاسی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اقتصادی حالات خراب ہیں۔ ان ملکوں میں مطلق العنان حکومتیں قائم ہیں۔ غرض ایسے تمام حالات موجود ہیں جو عدم استحکام، ناکام ریاستوں اور دہشت گردی کو جنم دیتےہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگلے 10 یا 20برسوں میںعرب ملکوں کے مقابلے میں   وسط ایشیا کے ملکوں میں مغرب کے مخالف دہشت گردوں کی تعداد زیادہ ہو جائے۔
 
کرغزستان کے صحافی علی شیرخامیدوف (Alisher Khamidov)  تسلیم کرتے ہیں کہ وسط ایشیا کے ملکوں میں  آمرانہ لیڈروں نے دہشت گردی    کے خطرے کی آڑ میں سیاسی مخالفت اور انسانی حقوق کو پامال کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے’’کرغزستان میں اور عام طور سے وسط ایشیا میں ، انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے لیے مغربی ملکوں کی حمایت میں نمایا ں کمی آئی ہے ۔مجھے اِس رجحان میں اور کرغزستان میں اور وسط ایشیا کے دوسرے علاقوں میں آمرانہ حکومتوں کی بہتات کے درمیان تعلق نظر آتا ہے ۔یورپی یونین ، امریکہ اور دوسر ے ملکوں نے انسانی حقوق اور جمہوریت کو پس پشت ڈال دیا ہے اور ہم اس رجحان پر سخت ناخوش ہیں۔‘‘
 
مثلاً اس ہفتے یورپی یونین نے ازبکستان کے خلاف اسلحہ کی پابندی کو ختم کر دیا ہے۔ انسانی حقوق اور پریس کی آزادی کی حمایت کرنے والےگروپوں نے اس فیصلے پر احتجاج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پروفیسرگوبل  کا خیال ہے کہ ازبکستان اور وسط ایشیا کی دوسری سابق سوویت جمہوریتوں کا ان کے اسلامی ورثے سے گہرا تعلق ہے۔ سوویت روس کے عہد میں وسط ایشیا سے مذہبی عقائد کو ختم کر دیا گیا تھا۔ سوویت روس کے زوال کے بعد  اسلام کے بارے میں لوگوں کے خیالات میں فوری اور زبردست تبدیلی آئی ۔وسط ایشیا میں روایتی اسلام میں انتہا پسندی نہیں تھی لیکن سوویت روس کے عہد میں جس طرح اسلام کو مٹانے کی کوشش کی گئی  اب اس کا ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے ۔تا ہم  عام خیال یہ ہےکہ وسط ایشیا میں روایتی اسلامی کلچر اور مذہب کا احیاء ہو رہا ہے اور دنیا کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی سیاسی زندگی میں اس کا اظہار بہت سی مختلف اشکال میں ہو رہا ہے ۔