جرمنی کی چانسلر آنگلا میرکل اور دوسرے رہنما دیوارِ برلن کے گرنے کی سالگرہ کے سلسلے میں ہونے والی تقریبات میں شامل ہیں
عالمی رہنماؤں، عمائدین اور ہزاروں افراد نے برلن میں دیوارِ برلن گرنے کی 20 ویں سال گرہ کے سلسلے میں ہونے والے تقریبات میں حصہ لیا۔ 1989ء میں آج ہی کے دن اس واقعے نے مستقبل کا رخ موڑ کر رکھ دیا تھا۔
یہ دیوار تقریباً تین عشروں تک قائم رہی اور اس دوران اس نے برلن شہر کو مغربی اور مشرقی حصوں میں تقسیم کیے رکھا۔ بالآخر پرامن مظاہروں اور انقلابات اور روس میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ دیوار قائم نہ رہ سکی اور اس کے انہدام کے ساتھ یہ سرد جنگ کا خاتمہ اور مشرقی اور جرمنی کا اتحاد ممکن ہو سکا۔
برلن میں بارش کے باوجود بورن ہوم پل پر لوگوں کا ہجوم اکٹھا تھا۔ یہاں وہ پہلی چوکی ہے جو نو نومبر 1989ء کی رات کو کھلی تھی۔
جرمنی کی چانسلر آنگلا میرکل علامتی طور پر ایک حصے سے دوسرے حصے کی طرف گئیں۔ روس کے سابق صدر میخائل گورباچوف، پولینڈ کے سابق صدر لیخ وئینسا اور اس دور کے شہری حقوق کے نمائندے جرمن چانسلر کے ہم راہ تھے۔
چانسلر میرکل نے کہا کہ یہ موقع بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پل کے کھلنے کی وجہ سے جو امکانات پیدا ہوئے وہ مسرت انگیز ہیں جو جبر کے خلاف طویل جدوجہد کا ثمر ہیں۔ انھوں نے لیخ وئینسا اور روس کے سابق اصلاح پسند رہنما میخائل گورباچوف کا شکریہ ادا کیا۔ ان دونوں نے دیوارِ برلن کے گرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
عالمی رہنما دیوار برلن کے گرنے کی 20ویں سالگر ہ کے موقعے پر ہونے والی تقریبات میں شریک ہو رہے ہیں۔ ان تقریبات میں کنسرٹ، آتش بازی کے مظاہرے، اور ایک دیوار کو علامتی طور پر گرایا جانا شامل ہیں۔ اس دیوار پر بڑے بڑے رنگین ڈامینو رکھے گئے ہیں۔ ڈیڑھ کلومیٹر طویل یہ ڈامینو اس جگہ گرائے جائیں گے جس علاقے میں یہ بیس سال قبل یہ دیوار ایستادہ تھی۔
تقریب کے منتظمین نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تقریبات کا تعلق عام عوام سے ہو، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ یہ عوام کی طاقت تھی جس نے دیوار گرانے اور تاریخ کا رخ موڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔