عالمی ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے خبردار کیا ہے کہ وبائی امراض کابڑھتا ہوا بوجھ غریب ملکوں کی سماجی اور معاشی ترقی پر اثرا نداز ہورہاہے۔ ریڈکراس کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ امیر تر ممالک ان غریب ملکوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر بہت کم توجہ دے رہے ہیں جہاں یہ وبائی بیماریاں زیادہ تر پائی جاتی ہیں۔
Red Cross
ایسی بیماریاں جو ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہوتیں، مثلاً ہارٹ اٹیک اور کینسر دنیا بھر میں اموات کا سبب سے بڑا سبب ہیں۔لیکن انٹرنیشنل ریڈ کراس فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وبائی امراض کے خلاف جنگ جیتی جاچکی ہے جیسا کہ امیر ممالک میں اکثر لوگوں کا خیال ہے۔
ریڈکراس کے صحت سے متعلق ہنگامی حالات کے ایک سینیئر عہدے دار تیمام ایلوڈٹ کا کہنا ہے کہ دنیا وبائی امراض پر قابو پانے کے سلسلے میں آج ماضی کے مقابلے میں مزید پیچھے چلی گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہر سال تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ افراد وبائی امراض کے ہاتھوں ہلاک ہورہے ہیں۔ اس سال گردن توڑ بخار سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ماضی سے کہیں زیادہ ہے۔ پولیو کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جتنا ہم سمجھتے تھے۔ہم ان بیماریوں کا ابھی تک سدباب کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔اگرچہ وبائی امراض کےزیادہ تر مریضوں کا تعلق امیر ملکوں سے نہیں ہے اور اس کا نشانہ زیادہ تر غریب بن رہے ہیں، تاہم یہ صورت حال آئندہ برقرار نہیں رہے گی۔ آج دنیا میں وبائی امراض سے متاثرہ افراد کی تعداد تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں وبائی امراض کےسماجی اور اقتصادی نتائج تباہ کن ہیں اور انہیں بہتر طورپر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی امراض کاشکار ہونے والے لوگ عام طورپر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اورپولیو کی صورت میں اپنی زندگی کا بہترین حصہ معذوری کی حالت میں گزارتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں کو چاہیئے کہ وہ ترقی پذیر ملکوں میں پھیلنے والی وباؤں کو نظر انداز نہ کریں۔ مثال کے طورپر رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مغربی یورپ میں خسرہ اور ٹی بی کی بیماریوں کے دوبارہ نمودار ہونے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دولت مند ملک غریب ملکوں کے لوگوں کی بیماریوں کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔
ڈاکٹر ایلوڈٹ کہتے ہیں کہ وبائی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بہت سی ادویات اور ویکسین ناکام ہورہی ہیں۔ ان میں قوتِ مدافعت کم ہورہی ہے اور جن افراد کو ان کی ضرورت ہے، وہ ان تک نہیں پہنچ رہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی امراض سے نمٹنے کا ایک سادہ سا فارمولا یہ ہے کہ انھیں پھیلنے ہی نہ دیا جائے۔ لیکن اس میں کہا گیا ہے کہ صحت کی ہنگامی صورت حال کے لیے تیاری پر زندگیاں بچانے اور بیماری کے علاج کے حوالے سے اس کی نسبت کہیں کم اخراجات ہوتے ہیں جتنا کہ وبا کے پھیلنے کے بعد اس کے نتائج سے نمٹنے میں۔
ریڈ کراس کے ادارے کا کہناہے کہ بہت سی جان لیوا متعدی بیماریوں کا آسانی سے علاج ہوسکتا ہے اور ان کے لیے بہت کم وسائل درکار ہوتے ہیں۔
آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔
استعمال اور پرائیویسی نوٹس