عراقی پارلیمنٹ نے 16 جنوری کو منعقد ہونے والے پالیمانی انتخابات کے لیے درکار ایک نئے انتخابی قانون کی منظوری کے لیےووٹنگ مؤخر کردی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ساتویں بار ایسا ہوا ہے کہ عراقی پارلیمنٹ کے ارکان ، اپنے اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
عراقی ٹیلی ویژن نے اتوار کی صبح خبردی تھی کہ کرکوک کے اہم مسئلے پر، مفاہمت ہوگئی ہے لیکن یہ اعلان بعد میں ایک خوش فہمی ثابت ہوا۔
عراق کی انتخابی کمیٹی کے سربراہ فراج الحیدری ، عراقی سیاست دانوں کو باربار خبردار کرچکے ہیں کہ اگر انہوں نے کسی نئے انتخابی قانون کو جلد منظور نہ کیا تو انتخابات کا انعقاد ناممکن ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون مؤثر بنانے میں ہر ہر تاخیر سے انتخابات کی مقررہ تاریخ متاثر ہوگی اور انتخابی کمشن کو نئے انتخابی قانون کے متن کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔اس لیے یہ صحیح صحیح کہنا دشوار ہے کہ انتخابات درحقیقت کب منعقد ہوسکتے ہیں۔
عراقی پارلیمنٹ میں کئی ہفتوں سے ،کئی نسلی گروپوں پر مشتمل اور تیل سے مالامال شہر کرکوک میں متناسب نشستوں کے مسئلے پر بحث جاری ہے۔
سنی عرب سیاست دانوں کا ایک اتحاد کرکوک میں عربوں، کردوں اور ترکمانوں کے درمیان نشستوں کو برابر تقسیم کی توقع رکھتا ہے جب کہ ایک کرد اتحاد 2009ء کے ایک انتخابی طریقہ کار کے استعمال پر زور دے رہاہے جس میں شہر کی کرد آبادی کے حالیہ اضافے کی عکاسی کی گئی ہے۔
وزیر اعظم نوری المالکی نے پارلیمنٹ کو خبردار کیا ہے کہ اگر انتخابات جنوری میں طے شدہ پروگرام کے مطابق نہ ہوئے تو عراق میں انتشار اور تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
امریکی فوجی عہدےد اروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنوری کے پارلیمانی انتخابات کے کسی التوا سے 2010ء کے دوران عراق سے امریکی فورسز کے انخلا کے منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں۔