عراقی عہدے داروں نے کہا ہے کہ اکتوبر کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد گذشتہ مہینے کے مقابلے میں دگنی سے زیادہ ہے۔
اکتوبر کے مہینے میں جن 343 عام شہریوں کے بارے میں خیال کیا گیا ہے کہ وہ ہلاک ہوئے ہیں، ان میں 150 سے زیادہ گذشتہ ہفتے وسطی بغداد کے دو کار بم دھماکوں میں لقمہ اجل بنے تھے۔
اتوار کے روز عراقی پولیس نے تشدد کے مزید واقعات کی خبر دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک بھر میں ہونے والے چار بم دھماکوں میں کم ازکم آٹھ افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بغداد کے جنوب میں تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبے مصائب کی ایک مقبول مارکیٹ میں سائیکل پر نصب ایک بم پھٹنے سے کم ازکم پانچ افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوگئے تھے۔