ایران کے سرکاری خبررساں ادارے نے کہا ہے کہ پولیس نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو خبردار کیاہے کہ وہ تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے 30 سال پورے ہونے کے موقع پر ریلیوں کے دوران مظاہرے نہ کریں۔
کچھ روز قبل شکست خوردہ صدارتی امیدوار امیر حسین موسوی نے بظاہر یہ تجویز دی تھی کہ ان کے حامیوں کو 1979 میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کی خوشی منانے میں حصہ لینا چاہیے۔
موسوی نے ہفتے کے روز اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کی تحریک اپنے مطالبوں پر ثابت قدم رہے گی۔
حزب اختلاف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ 12 جون کے صدارتی انتخابات میں صدر محمود احمدی نژاد کے حق میں دھاندلی ہوئی تھی۔
ایرانی حکومت نے جون کے متنازع انتخابات کے بعد ہونے والے مظاہروں میں زبردست پکڑ دھکڑ کی تھی، جس دوران سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں بدترین بدامنی تھی۔
ایران کے سابق صدر اور اصلاح پسند محمد خاتمی نے بھی ہفتے کے روز کہا کہ ان کے حامی موجودہ حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔