کچھ ایرانی قانون سازوں نے کہا ہے کہ ایران اپنی یورینیم کو افزودگی کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے کے اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ منصوبے کو مسترد کردے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے (اِسنا) نےممتاز قدامت پسند قانون ساز علاالدین بورو جردی کے حوالےسے کہا کہ ایران اپنی 1200کلوگرام افزودہ یورینیم میں سے کچھ بھی بیرونی ملک نہیں بھیجے گا۔
فرانس، روس اور امریکہ ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنی کم تر سطح کی افزودہ یورینیم کے تقریباً سات فی صد کے بدلے جوہری ایندھن حاصل کرے جس سے اُن بین الاقوامی خدشات کو دور کرنے میں مدد ملے گی کہ اس کے ذخیرے کسی بم بنانے میں استعمال نہیں ہوں گے۔
ایک اور قدامت پسند قانون ساز، حسین نقوی حسینی نے کہا کہ ایران بین الاقوامی وعدوں پر اعتبار نہیں کر سکتا، اِس لیے وہ ایسےکسی مجھوتے کو نہیں مان سکتا۔
اُنھوں نے کہا کہ ایران کسی دوسرے ملک سے براہِ راست یورینیم خرید سکتا ہے یا پھر خود اِسے افزودہ کر سکتا ہے۔
روس کے صدر دمتری مددیو کہتے ہیں کہ بین الاقوامی مذاکرات میں اگر ایران قدرے تعمیری موقف اختیار کرلے تو مزید پابندیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
اُنھوں نے یہ بات جرمنی کے رسالے ‘در سپائگل’ کودیے گئے انٹرویو میں کہی۔ مسٹر مددیو نے کہا اکثرو بیشتر قدغنیں ایک خطرناک سمت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لیکن، اُن کا کہنا تھا کہ بہرحال یہ ضروری ہو سکتی ہیں۔