ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 20 مارچ 2010
  • آج وی او اے پر

دنیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

ایران کی طرف سے مغرب کو خیرسگالی کا پیغام: احمدی نژاد

شیئر کیجیئے


ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران مغرب کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے ایٹمی ایندھن کی فراہمی کے منصوبے پر  کام کرنے کے لیے تیار ہے۔  انھوں نے  کہا کہ ایران اقوامِ متحدہ   کی جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے گا۔

اُنھوں نے مغرب سے مخاطب ہو کر کہا کہ  آپ نے پابندیوں کی قرارداد وں اور فوجی کارروائیوں کے ساتھ کئی برس تک ہماری قوم  کے ساتھ محاذ آرائی کی ہے،    اب آپ اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔  ‘ہم تبدیلی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔  ہم اُس ہاتھ سے مصافحہ کریں گے جو ہماری جانب ایمان داری کے ساتھ بڑھایا گیا ہے۔ ’

تاہم اُنھوں نے مشہد میں ایک اجتماع کو یہ بھی بتایا کہ ایران بقول اُن کے اپنے جوہری حقوق سے کبھی دست بردار نہیں ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کی ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی  یہ چاہتی ہے کہ اپنے  یورینیم کے ذخائر کو تقریباً  20فی صد افزودگی کے لیے روس بھیجے۔  یہ مقدار  توانائی کے حصول کے لیے  کارآمد ہیں،   لیکن اُس کی افزودگی کی سطح اتنی کم ہے کہ وہ ہتھیاروں میں استعمال نہیں ہو سکتی۔ اِس کے بعد اِس ایندھن کو جوہری سلاخوں یا پلیٹوں میں  تبدیل کرنے کے لیے فرانس بھیجا جائے گا اور اگلے سال کے اختتام تک یہ ایران واپس آ جائے گا۔

اِسی اثنا میں مغربی ممالک ایران کے پورے جوہری پروگرام کے متعلق اُس کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے۔   لیکن حالیہ دِٕنوں میں ایرانی میڈیا نے اِس سمجھوتے میں فرانس کے کردار سے متعلق شکایت کی ہے۔

فرانس نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کے خلاف بالخصوص سخت مؤقف اختیار کیا ہے،  جس کے جواب میں  ایرانی ذرائع کی رپورٹوں میں شکوک کا اظہار کیا گیا ہے کہ فرانس ایمان دار ثالث کا کردار ادا کرے گا۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے انسپکٹر قم کے قریب ایٹمی پلانٹ کا معائنہ کرنے کے بعد ایران سے واپس آگئے ہیں۔  اِس تنصیب کا حال ہی میں انکشاف ہوا تھا۔   توقع ہے کہ انسپکٹروں کی رپورٹ اگلے ماہ منظرِ عام پر آجائے گی۔