انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بام بانگ یودھویونو نے کہا ہے کہ ملک کے نظام انصاف سے بدعنوانی کا خاتمہ ان کی دوسری پانچ سالہ صدراتی مدت کے پہلے 100 دن کی اولین ترجیجات میں سے ایک ہے۔
جمعرات کے روز جکارتہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ان کی حکومت قانون کے جامع نفاذ اور عدالتوں، پولیس اور حکومتی وزارتوں میں دھونس، رشوت ستانی اور دوسری خرابیوں کے خلاف جنگ کرے گی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے لیے کیا خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
مسٹر یودھویونو انڈونیشیا کے انسداد رشوت ستانی کے ادارے کی اہمیت گھٹانے کے ایک مبینہ منصوبے سے تعلق کی بنا پر قانون نافذ کرنے والے دو اعلیٰ عہدے داروں کے استعفے کے بعد بات چیت کررہے تھے۔
منظر عام پر آنے والی ٹیلی فون کی ریکارڈنگ میں اس منصوبے کے لیےڈپٹی اٹارنی جنرل عبدالحکیم رتونگا اور اور قومی پولیس کے سربراہ جنرل سوسنو دودجی کے نام لیے گئے ہیں۔اس ہفتے کے شروع میں یہ ریکارنگ ایک ٹیلی ویژن پر نشر ہونے کے بعد ملک بھر میں اس مبینہ منصوبے پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔