ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

دنیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کی 91 ویں سالگرہ

شیئر کیجیئے


امریکی صدر براک اوباما بدھ کے روز سابق فوجیوں کے دن کے موقع پر واشنگٹن کے قریب آرلنگٹن کے قومی قبرستان میں پھولوں چڑھانے کی ایک روایتی تقریب اور تقریر سے اپنے دورہ صدرات کا پہلا ’ویٹرنز ڈے‘ منائیں گے۔
مسٹر اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل دن کا آغاز وائٹ ہاؤس میں ویٹرنزڈے کے ایک ناشتے کی میزبانی سے کریں گے۔
پہلی عالمی جنگ کو ختم کرنے والے فائر بندی کے معاہدے کی 91 ویں سالگرہ کی ایسی ہی تقریبات امریکہ اور دنیا بھر میں منعقد کی جارہی ہیں۔ یہ جنگ سرکاری طورپر 91 سال پہلے گیارہویں مہینے کی گیارہویں تاریخ کو دن کے گیارہ بجے ختم ہوئی تھی۔
یورپ اور دوسرے ملکوں میں اس دن کو امن معاہدے یا جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والوں کی یاد کے دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔
لندن میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ویسٹ منسٹر ایبی میں ایک تقریب میں شرکت کی جہاں دو منٹ کی روایتی خاموشی اختیار کی گئی۔ یہ برطانیہ کی پہلی ایسی تقریب ہے جس میں پہلی عالمی جنگ کے زندہ بچ جانے والے آخری تین فوجی شریک نہیں ہوں گے۔ ان تینوں ولیم سٹون،  ہینری الینکھم اور ہیری پیچ کا اس سال کے دوران انتقال ہوچکاہے۔
پہلی جنگ عظیم کے آخری زندہ بچ جانے والے برطانوی فوجی کلاڈے چولز کی عمر 108 سال ہے اور وہ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں رہتے ہیں۔
پیرس میں فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی اور جرمن چانسلر آنگلا میرکل نے فرانس کے گمنام فوجی کی یادگار پر صبح سویرے ایک دعائیہ تقریب میں شرکت کی۔