آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہوکہ ارجنٹائن کے صوبے سین لوئیس کے باشندے ڈینگی بخار سے بچنے کے لیے مینڈک پال رہے ہیں۔
ڈینگی بخار کا وائرس صاف پانی پر رہنے والے ایک خاص قسم کے مچھر کے باعث پھیلتا ہے۔ یہ مچھر مینڈکوں کی پسندیدہ خوراک ہے۔ سین لوئیس کے باشندے مچھرمارنے کے لیے کیمکلز کے استعمال کی بجائے مینڈک پالنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ طریقہ نسبتاً کم قیمت بھی ہے اور کیمیائی زہروں کے سائیڈ ایفکٹس سے محفوظ بھی۔
ڈینگی بخار کا نشانہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک بنے ہوئے ہیں، جن میں ارجنٹائن خاص طور پر نمایاں ہے۔ سین لوئیس کے صوبائی دارالحکومت ہیرو میں جہاں ڈینگی بخار کے مریض کثرت سے دکھائی دیتے ہیں، لوگ تیزی سے مینڈک پالنے کی جانب راغب ہورہے ہیں۔
شمالی صوبہ چاکوکا شمار ارجنٹائن کے غریب ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں کی ایک تہائی آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی گذار رہی ہے۔ یہ صوبہ ڈینگی بخار کا بڑے پیمانے پر نشانہ بنا ہوا ہے اور وہاں اس مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
مقامی کونسلر ڈینیل سوسا مینڈک پالنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ماحول دوست محافظ ایک مہینے میں 15 ہزار سے زیادہ کیڑے مکوڑے اور دیگر حشرات الارض کھا جاتا ہے جن میں وہ مچھر بھی شامل ہیں جو ڈینگی بخار پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو چاہیئے کہ وہ کیڑے مار ادویات کا استعمال چھوڑ دیں اور اس کی بجائے مینڈک پالنا شروع کردیں۔ اس سے مچھروں سے چھٹکارا بھی مل جائے گا اور ماحول بھی صاف رہے گا۔
ڈینیئل سوسا مینڈک فروخت نہیں کرتے بلکہ وہ لوگوں کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ وہ اپنے گھروں ، باغیچے اور ان جگہوں پر جہاں مچھرپرورش پاسکتے ہیں، مینڈک پالیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ڈینگی بخار کے مرض پر قابو پانے کا سادہ ترین طریقہ ہے، جب کہ کئی دوسرے افراد اس مشورے پر اس توقع پر عمل کررہے ہیں کہ اس طرح وہ خود کو اس تکلیف دہ بیماری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کرم کش ادویات مچھروں کے مسئلے کا فوری حل ہیں مگر یہ حل عارضی ثابت ہوتا ہے اور جس کازہروں کا اثر گھٹنا شروع ہوتا ہے، مچھروں کی دوبارہ افزائش شروع ہوجاتی ہے ۔ جب کہ مینڈک اس مسئلے کا مستقل حل ہیں کیونکہ وہ نہ صرف مچھروں کو کھاتے ہیں بلکہ ان کے انڈے اور بچے بھی ہڑپ کرجاتے ہیں۔
میگوئل اینجل اس مہم میں شامل ہیں اور انہوں نے اپنے صحن میں مینڈک پال رکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مچھرمارنے کے لیے زہریلی دواؤں کے استعمال سے یہ کہیں بہتر ہے کہ انسان اور ماحول دوست مینڈک پالے جائیں۔
گذشتہ کچھ عرصے کے دوران متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ سے مچھروں میں ان کیمیکلز کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوگئی ہے اور اب ادویات ان پر زیادہ اثر نہیں کررہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کیمیکلز کے کثرت سے استعمال کے باعث ڈینگی بخار کا ایک ایسا نیا وائرس وجود میں آگیا ہے جو اکثر ادویات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کیڑے مار ادویات کے استعمال سے حیات، نباتات اور ماحول ، ہر چیز پر منفی اثرات پڑے ہیں اور اس کے مضر صحت اثرات کا سامنا انسانوں کو بھی کرنا پڑ رہاہے۔ارجنٹا ئن کے شہر میڈیکوس ڈیل مونڈو میں رہنے والے گونزالو باسیلے صحت سے متعلق ایک عالمی تنظیم کے رکن ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کیڑے مار ادویات کے بڑے پیمانے پر استعمال سے ماحول کو جو نقصان پہنچا ہے، اس نے ڈینگی بخار کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ مچھروں پر کنٹرول کے لیے ہمیں کیمیائی طریقے کی بجائے حیاتیاتی طریقوں پر غور کرنا ہوگا۔
یونیورسٹی آف سین لوئیس کے بیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ اینا بری گادا کا کہنا ہے کہ کسی منصوبہ بندی کے بغیرایک مسئلے کو حل کرنے کی کوشش ہمیں کسی دوسرے بڑے مسئلے کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مہم کا انداز چاہے جیسا بھی ہو، سین لوئیس کے لوگوں کو مینڈکوں کی اہمیت کا احساس ہوگیا ہے۔