چینی حکام کا کہنا ہے ملک کے مغربی علاقے سنکیانگ میں اغرومسلمانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 156 ہو گئی ہے جب کہ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق پولیس نے 1400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے لیکن سرکاری عہدیداروں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔
A resident stands near a burnt car dealership in Urumqi, China, 06 Jul 2009وائٹ ہاؤس نے چین میں ہونے والے ان ہنگاموں پر تشویش کا اظہارکیا ہے اور صبر کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک روز قبل کہا تھا کہ چین کو چاہیے کہ وہ تمام اختلافات کو پرامن طریقے سے مکالمے کے ذریعے حل کرے۔ اُنھوں نے تمام حکومتوں سے اپیل کہ وہ اپنے شہریوں کی سلامتی اور جانوں کی حفاظت کریں۔بان کی مون نے چین سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ تقریر،اجتماع اور اطلاعات کی آزادیوں کو تحفظ فراہم کرے۔
چینی عہدیداروں نے ورلڈ اغرو کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان ہنگاموں کو ہوا دے رہی ہے ۔ اس تنظیم کی رہنما ایک اغرو تاجر خاتون ربیعہ قدیر ہیں جو ایک چینی جیل میں کئی سال قیدرہنے کے بعد اب امریکہ میں قیام پزیر ہیں۔
چین کی جلاوطن تنظیموں نے ان ہنگاموں میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامے اکثریتی بان نسل کے اقتصادی اور دوسرے شعبوں پر بہت زیادہ کنٹرول کی وجہ سے اغرو مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔