ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

دنیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

تہران میں برطانوی سفارت خانے کے تنازعے میں شدت

شیئر کیجیئے

آیت اللہ جنتی نے جمعے کے خطبے میں کہا کہ برطانوی سفارت خانے کے عملے کے بعض ارکان نے لوگوں کو ہنگامے پر اُکسانے کا اعتراف کرلیا ہے

یورپی یونین سے وابستہ ملکوں نے تہران میں برطانوی سفارت خانے کے عملے کی گرفتاری پر باضابطہ احتجاج کر نے کے لیے  ایرانی سفیروں کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ملکوں نے جمعے کے روز برسلز میں ایک اجلاس کے دوران اس اقدام سے اتفاق کیا ہے۔

یورپی یونین کے عہدے دار ایرانی عہدے داروں کے لیے ویزے کے اجرا پر پابندی سمیت دوسرے اقدامات پر بھی غور کررہے ہیں۔

ایران کے ایک چوٹی کے ملاّ آیت اللہ احمد جنّتی  نے جمعے کے روز کہا ہے کہ انتخابات کے بعد مبیّنہ طور پر احتجاجی مظاہروں میں حصّہ لینے کی بنا پر برطانوی سفارت خانے کے عملے کے کچھ ارکان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ آیت اللہ احمد جنّتی نے جمعے کے خطبے میں کہا ہے کہ عملے کے بعض ارکان نے لوگوں کو ہنگامے پر اُکسانے کا اعتراف کرلیا ہے۔ جنّتی ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے قریبی ساتھی ہیں۔

گذشتہ اتوار کے روز تہران میں برطانوی سفارت خانے کے عملے کے نو ارکان کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔کچھ کو رہا کردیا گیا ہے، لیکن برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ دو ابھی تک پولیس کی تحویل میں ہیں۔

برطانوی دفترِ خارجہ نے جمعے کے روز تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی چھان بین کررہا ہے کہ ان ملازمین کو مقدمے کے سامنا ہے۔