چین کے ایک اخبار نے بچّوں کی فروخت کے ایک ایسے مبیّنہ دھندے کا انکشاف کیا ہے، جس میں خاندانی منصوبہ بندی کے اہل کاروں نے والدین سے تقریباً 80 بچّوں کو چھین کر اُنہیں گود لے کر پالنے کے لیے بیرونِ ملک فروخت کردیا تھا۔
اخبار نانفانگ دُشی پاؤ نے کہا ہے کہ امریکی اور یورپی جوڑوں نے صوبے کُوئى چو کے ایک یتیم خانے کو ہر ایک بچہ حاصل کرنے کے لیے تین ہزار ڈالر ادا کیے تھے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اُسے اپنی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ یتیم خانے نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ 78 شیر خوار بچیوں کو اُن کی ماؤں نے چھوڑ دیا یا وہ یتیم ہوگئى تھیں، چین کے اُس سرکاری ادارے کو مبیّنہ طور پر گمراہ کیا تھا، جو گود لینے کے لیے عموماً یتیم بچّوں کو موزوں اور مستحق جوڑوں کے سُپرد کرنے کا ذمّے دار ہے۔
اخبار نے کہا ہے کہ اس کی بجائے ان بچیوں کو آبادی کے بارے میں چین کی سخت پالیسیوں کے تحت اُن کے والدین سے زبردستی چھین لیا گیا تھا۔
اخبار کے مطابق بچوں کی فروخت سے یتیم خانے کو جو رقم ملتی وہ اُس کا کچھ حصّہ خاندانی منصوبہ بندی کے مقامی حکام کو دے دیا کرتا تھا۔اور یہ حکام ایسے والدین کو اپنےبچوں سے دست بردار ہونے پر مجبور کرتے تھے، جو حکومت کی مقرر کی ہوئى تعداد سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر بھاری جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہ ہوتے تھے۔
چین کے دیہی علاقوں میں ایسے والدین کو عموماً جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے جن کے ہاں دو سے زیادہ بچے پیدا ہوں۔ صرف نسلی اقلیتوں کے لوگ اس پابندی سے بچے ہوئے ہیں۔