پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت گھروں، دفاتر، بازاروں، نجی محفلوں یا تفریحی مقامات پر خواتین کی حیا کی توہین یا انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے جیسے افعال کے مرتکب افراد کو تین سال قید اورجرمانہ کی سزا دی جاسکے گی۔
تعیزرات پاکستان میں ترمیم کے اس بل کے اغراض و وجوہ میں کہا گیا ہے کہ ”ہراساں اور تشدد کرنے کا معاملہ ایک عام رواج بن گیا ہے جس کا پاکستان کی خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انھیں مارکیٹوں ، بس اسٹاپوں اور مقام کار پر ہراساں کیا جاتااور تشدد کا نشانہ بنایا جاتاہے ۔ یہ مسئلہ اکثر خواتین کو حصول علم ، طبی سہولتوں کے حصول اور ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے گھر سے نکلنے میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے جب کہ والدین اپنی بیٹیوں کو اکیلے گھر سے باہر بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ سماجی ماحول محفوظ نہیں ہے۔‘‘
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون خواتین کے لیے پبلک اور مقام کار کے ماحول کو نہ صرف محفوظ بنائے گا بلکہ مزید خواتین کے لیے ایسی راہ ہموار کرے گی جس پر چل کر وہ باعزت روزی کما سکیں گی اور روزگار کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ خواتین کی حوصلہ افزائی ہوگی جس غربت میں کمی واقع ہو گی۔