امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں مزید فوج بھیجنے یا نہ بھیجنے کے معاملے پر جلد بازی نہیں کریں گے۔
صدر اوباما نے پیر کے روز فلوریڈا کے ایک امریکی ہوائی اڈے پر ہوابازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں اگلے قدم پر غور کرتے ہوئے وہ امریکی فوجیوں کو وہاں خطرات میں ڈالنے کے سنگین فیصلے پر جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک بے حد ضروری نہ ہو، وہ کبھی بھی فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔
صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ہفتے ایک ایسے قانون پر دست خط کریں گے جس کے تحت نیوی اور میرینز پر کیے جانے والے اخراجات میں اضافہ کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ امریکہ دانش مندی سے دفاعی رقم خرچ کر رہا ہے، حکومت دسیوں ارب ڈالر والے غیر ضروری منصوبے ختم کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فوجیوں کی تنخواہوں اور ان کے بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات میں اضافہ کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت فوجیوں کے خاندانوں کو جنگ کی وجہ سے جدائی کے صدمے سے نمٹنے میں بھی مدد دے رہی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کی 30 کروڑ سے زیادہ آبادی میں ایک فی صد سے بھی کم افراد رضاکارانہ طور پر فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اور ملک کی حفاظت کے بھاری بوجھ سے عہدہ برا ہوتے ہیں۔