میری لینڈ سے ڈیموکریٹ پارٹی کےرکنِ پارلیمنٹ کِرس وان ہولن نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیےپانچ سالہ 7.5ارب ڈالر سماجی اور معاشی امداد کے کیری لوگر بِل کا مقصد پاکستان کے ساتھ مضبوط اور پائیدار تعلقات استوار کرنے کا اعادہ کرنا ہے۔
اُن کے بقول بِل کی رو سےیہ پیغام بھیجاا مقصود تھا کہ باہمی مفاد پر مبنی یہ تعلقات مستقبل میں عوامی سطح پر مزید بڑھیں گے۔
جمعرات کو وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں اُنھوں نے واضح کیا کہ یہ قانون کسی طور پر پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا۔
اُنھوں نے کہا کہ کیری لوگر قانون سازی طویل مدتی تعلقات کے عزم کا مظہر ہے، جو پانچ سالوں پر محیط امداد ہوگا جوکہ ماضی کی نسبت بڑی سطح کی معاشی حمایت کا عملی مظاہرہ ہوگا۔ ایوانِ نمائندگان کے رکن نے پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دِٕنوں میں امریکہ کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مل کر بل کے بارے میں پاکستان میں پائی جانے والی تشویش کے معاملات کو طے کیا۔ اُن کا اشارہ وضاحتی بیان کی طرف تھا جس کی رو سے اُن پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے جنھیں پاکستان کی طرف سے تشویش کا باعث قرار دیا جا رہا تھا، اور جسے بِل کا حصہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اُن کے الفاظ میں یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کے لوگ امریکہ کا نقطہٴ نظر سمجھیں۔ ‘یہ شراکتِ عمل کا معاملہ ہے۔ اِس میں کوئی ایسا اقدام نہیں کیا گیا جس سے پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ پر حرف آتا ہو۔ درحقیقت معاشی امداد کے اِس پیکیج کا مقصد پاکستان کو معاشی امداد مہیا کرنا تھا۔’
یاد رہے کہ ایوانِ نمائندگان میں یہ بِل کِرس وان ہولن نے پیش کیا تھا، جو ایوان سے منظور ہونے کے بعد اب سنیٹ کے سامنے ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ کیری لوگر بِل میں اپرچیونٹی زونز کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا ہے، جہاں کی صنعتوں میں کئی اشیا تیار کی جائیں گی جِن کو بغیر محصول کے امریکی مارکیٹ میں رسائی حاصل ہوگی۔ رکنِ کانگریس نے اِس توقع کا اظہار کیا کہ سنیٹ بھی بہت جلدی اِس قانون پراپنی منظوری دے دے گا۔
اُن کے بقول، صدر اوباما اِس بِل کی حمایت کرتے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان کی اِسے حمایت حاصل ہے اور اب میں سنیٹ کی طرف سے منظوری کا انتظار ہے۔
شدت پسندی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر اُنھوں نے کہا کہ حالیہ دِنوں میں انتہا پسند تحریک ِ طالبا ن پاکستان نے پاکستان میں سنگین دہشت گردی کی ہے، اور پاکستانی عوام نے اِن شدت پسندوں کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم پاکستانی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں۔
میری لینڈ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے سنیٹر، بینجمن کارڈن کا کہنا تھا کہ پاکستانی لوگوں اور حکومتِ پاکستان کو اِس بات کا پورا پورا احسان ہے کہ شدت پسندی ملک و قوم کے لیے خطرہ ہے جس سے ملک کی حفاظت کرنا فرض ہے۔
اُن کے بقول‘یہی وہ عزم ہے جس کی قوم کو ضرورت ہے اور حکومت کی اولین ذمے داری ہے کہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات لے، اور پاکستان ضروری اقدامات لے رہا ہے۔’
سنیٹر رابرٹ پیٹرک کیسی، پین سلوانیا سے ڈیموکریٹ پارٹی کے نمائندے ہیں۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر کارروائی پر اُنھوں نے پاکستانی سول قیادت اور فوج کی تعریف کی ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِن عناصر سے نہ صرف پاکستان بلکہ علاقے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ شدت پسند عناصر پاکستان اور خطے کے عدم استحکام کا موجب ہیں اور اُن سے امریکی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
ممبر سنیٹ نے کہا پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ بات ہمت افزا ہے کہ پاکستانی فوج اِن عناصر سے مؤثر انداز میں نبرد آزما ہورہی ہے اور اِن کا صفایا کر رہی ہے، جس کے لیے، اُن کے بقول، ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
پاکستانی افواج کی طرف سے جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائی کے بارے میں سوال پر کانگریس مین جان ساربینز نے انتہا پسند عناصر کا صفایا کرنے میں پُر عزم ہونے پر حکومتِ پاکستان کی تعریف کی اور شکریہ ادا کیا۔
اُنھوں نے کہا امریکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں۔
اِس ضمن میں ساربینز نے کہا کہ سٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے فرض بنتا ہے کہ پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے پاکستان کی ہر طرح سے مدد کی جائے۔