صدر اوباما کی جانب سے افغانستان کے بارے میں امریکہ کی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے، ایسو سی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے مزید فوج افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے مگر شاید بھیجی جانے والی افواج کی تعداد اتنی نہ ہو جتنی کی درخواست افغانستان میں امریکی فوج کےکمانڈر جنرل میکرسٹل نے کی ہے۔ کابل کے عوام افغانستان کے لئے امریکی حکمت عملی کے اعلان میں تاخیر پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف لڑائی پاکستان کے کئی شہروں میں ایک ساتھ جا ری ہے اور اس کی قیمت ادا کرنے والوں میں فوجی جوان اور عام پاکستانیوں کی کوئی تخصیص نہیں۔ ادھر افغانستان میں، صدر حامد کرزائی ایک اور مدت کے لئےاپنی عوام کو جمہوریت اور گڈ گورنینس کے ثمرات سے فیضیاب کرانے کے وعدوں کے ساتھ کابل کے تخت پر براجمان ہوئے ہیں، امریکی فوج کے لئے جانی نقصان کے حوالے سے یہ سال بد ترین قرار دیا جا رہا ہے اورصدر اوباما پر مزید فوج افغانستان بھیجنے کے معاملے پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ واشنگٹن میں افغانستان پر مشاورت کے طویل دور دیکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کو اب فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے مگر مشورے دینے والوں میں صرف واشنگٹن کے ماہرین ہی شامل نہیں۔
ایک افغان طالب علم اظہر خیل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مزید فوج بھیجنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بہتر ی اس میں ہے کہ امریکہ یا افغان حکومت طالبان سے بات چیت شروع کرے۔
زین الدین وحدت بے روزگار افغانی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان کبھی فتح نہیں کیا جا سکا۔ جتنے مرضی فوجی بھیجے جائیں لڑائی ختم نہیں ہوگی، حکومت کو طالبان سے مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔
کابل کے رہنے والوں کے پاس بھی مشوروں کی کمی نہیں شرط یہ ہے کہ کوئی سننے والا ہو۔
ایک اور طالب علم احمد ولی مہمند کہتے ہیں کہ انہیں افغان عوام کی مدد کرنی چاہئے، یونیورسٹیز اور سکول اور وہ سب ادارے بنانے چاہئیں جو ہمارے عوام اور معاشرے کی ضرورت ہیں۔
داؤد سلطان زئی افغان پارلیمنٹ کے رکن ہیں، اور کہتے ہیں کہ افغانستان کو مزید غیر ملکی افواج کی ضرورت ہےمگر یہ افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کی حقیقی وجوہات عام نہ کرنے کو امریکی اور افغان حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس سیکیورٹی نہیں ہے تو آُپ سکول کیسے بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ دور دراز اضلاع میں نہیں جا سکتے تو سکول کیسے بنیں گے۔ سکول فوجی بیرکوں میں بنا کر تو ایکسپورٹ نہیں جا سکتے، آپ کو ہر علاقے میں خود جانا ہوگا، اور ان کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔
شنکئی کارخیل بھی افغان پارلیمنٹ کی رکن ہیں، اور کہتی ہیں، ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ امریکی حکومت کو کسی فیصلے تک پہنچنے میں اتنے ہفتوں کی مشاورت کیوں درکار ہے،
ان کا کہنا ہے کہ اب تک تو ان پر واضح ہو جانا چاہئے کہ انہیں کرنا کیا ہے، ظاہر ہے انہیں مزید فوجی بھیجنے ہی ہونگے کیونکہ افغان نیشنل آرمی ابھی اس قابل نہیں کہ اس ملک میں عسکریت پسندی پر قابو پا سکے۔
افغانستان میں اس وقت موجود امریکی فوجیوں کی تعداد اڑسٹھ ہزار اور نیٹو فوجیوں کی چالیس ہزار کے قریب ہےاور نیٹوافواج کی قیادت اور امریکی فوج کے کمانڈر جنرل میکرسٹل خبردار کر چکے ہیں کہ اضافی فوج بھیجے بغیر اتحادی افواج افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتیں۔ مگر امریکی رائے عامہ کی جانب سے جنگ کی مخالفت میں اضافہ صدر اوباما کے مزید فوج افغانستان بھیجنے کے فیصلے پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، یہ واضح ہونے میں اب شایدزیادہ دیر نہیں ہے۔