امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے مراکش میں اپنے قیام کا دوسرا دن بھی عربوں کی شکایات رفع کرنے کی کوششوں میں گذارا ، جنہوں نے یہودی بستیوں کی تعمیر محدود کرنے کی اسرائیلی پیش کش کی تعریف کرنے پر اپنی خفگی کا اظہار کیا تھا۔
منگل کے روز مراکش میں انہوں نےکہا کہ اوباما انتظامیہ بدستور اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے ایک دو ریاستی حل سے وابستہ ہے اوریہ کہ تمام متعلقہ فریقوں کو کوئی بھی بات کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
گزشتہ ہفتے ہلری کلنٹن نے اسرائیل کی جانب سے امن بات چیت کی بحالی کی ایک کوشش میں بستیوں کی توسیع محدود کرنے کی پیش کش کی تعریف کرتے ہوئے اسے بے مثال رعایت قرار دیا تھا ۔
یہ تبصرے فلسطینی لیڈروں کی نکتہ چینی کی وجہ بنے ،جنہوں نے امریکہ پر یہ کہتے ہوئے امن کی کوششیں متاثر کرنے کا الزام عائد کیا کہ 2003 کے امن کے ایک بین الاقوامی منصوبےمیں اسرائیل سے آباد کاری سے متعلق تمام سر گرمیاں روکنےکےلیے کہا گیا ہے ۔
امریکی وزیر خارجہ نے بعد میں اسرائیل کےلیے اپنی ابتدائی تعریف میں اعتدال پیدا کرتے ہوئے کہا کہ بستیوں کی توسیع محدود کرنے کی اسرائیلی پیش کش اس معاملے میں واشنگٹن کے موقف پرپوری نہیں اترتی۔
مز کلنٹن واشنگٹن کے لیے اپنی واپسی مؤخر کر دی ہے تاکہ وہ بدھ کے روز قاہرہ میں مصری صدر حسنی مبارک سے ملاقات کر سکیں ۔ امکان ہے کہ یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ کے تعطل کے شکار امن کےعمل پر مرکوز ہوں گے۔