امریکہ میں جہاں ایک طرف معیشت کی بحالی کی باتیں ہو رہی ہیں، وہیں حالیہ اقتصادی بحران کے اثرات کچھ شعبوں میں اب بھی واضع دکھائی دے رہے ہیں۔ جن میں سے ایک ہےگھروں کی تعمیر کی صنعت۔ نئے گھروں کی تعمیر میں اب بھی تیزی سے کمی دیکھنے میں آرہی۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے ستمبر کے مہینے میں گھروں کی تعمیرکے اجازت ناموں کے حصول میں 1.2 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ما ہرین کا کہنا ہے کہ گھروں کی قرقی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے معیشت کے سنبھلنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
ستمبر میں جہاں نئے گھروں کی تعمیر میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا، وہیں نئے گھروں کی تعمیر کے لیے اجازت ناموں کے حصول میں پچھلے 5 مہینوں میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔
بلڈرز پریشان ہیں کے گھروں کی تعمیر میں کمی گھروں کی خرید و فروخت پر بھی اثر انداز ہو گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بے روزگاری میں اضافے سے مکانو کی قرقی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
گائے ایکالا مارگیج کے حوالے سے ایک میگزین کے پبلشر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت پورے ملک میں ہر روز 10 ہزار گھروں کی قرقی ہو رہی ہے۔ اور میرا نہیں خیال کے مستقبل قریب میں حالات کچھ بہتر ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان پریشان کن حالات میں امریکیوں کے لیے اپنے گھروں کے قرضوں کی اقساط دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ پال ایمپیریل ان لاکھوں لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں مارگیج کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اپنے گھروں سے محروم ہونا پڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے بیروزگاری کا الاونس مل رہا ہے لیکن اس سےمیں اپنے گھر کی قسط نہیں ادا کر سکتا۔
صدر اوبا ما کی حکومت نے 75 ارب ڈالر کم آمدنی والے ایسے لوگوں کے قرضوں کی اصلاح لیے مختص کیے ہیں جو اپنے گھروں کے قرض کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوششیں اس بحران پر قابو پانے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ پیٹر موریسی میری لینڈ یونیورسٹی میں معاشیات پڑھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ نہیں سوچنا چائیے کہ اس امداد سے ان ہزاروں لوگوں کے حالات اچانک ٹھیک ہو جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ قرضوں میں نرمی کے عمل کے لیے قرض داروں کو اپنےذرائع آمدنی دکھانے پڑیں گے اور بیروزگار افراد کے لیے یہ ممکن نہیں۔
حکومت ان حالات سے نمٹنے کے لیے دوسرے طریقوں پر بھی غور کر رہی ہے۔ امریکی حکومت کے ہاوسنگ سیکرٹری شان ڈونوان نے منگل کو 17 بلین ڈالر کی رقم سینٹ میں منظور کرائی جس کا مقصد پہلی دفعہ گھر خریدنے والے امریکیوں کو ٹیکس میں چھوٹ دینا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت گھر خریدنے والوں کی مشکلات میں کمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
گھروں کی صنعت میں مندی کی وجہ سے وال سٹریٹ پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔ لیکن ماہرین کو امید ہے کہ حکومتی یقین دہانیوں اور امداد سے حالات میں کچھ بہتری آئے گی۔