صدر اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ سال کے آخرتک افغانستان کے بارے میں اپنے منصوبوں کا اعلان کریں گے
امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی تجویز کے بارے میں اوباما انتظامیہ کا ذہن صاف ہے لیکن اس معاملے میں احتیاط سے قدم بڑھانا چاہئیے۔
واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے، جہاں مسٹر اوباما پیر کے روز افغانستان پر غورو خوض کے لیے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کا اجلاس کررہے ہیں، کلنٹن نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں نے اس مسئلے پر تفصیل سے غور کیا ہے کہ طالبان کے اُن عناصر کو جو تشدّد اور القاعدہ کے ساتھ تمام رابطوں کو ختم کردیں، کس طرح دوبارہ افغان معاشرے میں جذب کیا جائے۔
کلنٹن نے کہا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے مستقبل کے کسی بھی مذاکرات کے لیے، جیسا کہ انہوں نے کہا، حقیقی معیار ہونے چاہئیں جن سے تمام شرکا کو لازماً پیشگی اتفاق کرنا ہوگا۔
پیر کی رات افغانستان اور پاکستان کے بارے میں قومی سلامتی کی ٹیم کے اجلاس میں نائب صدر جو بائیڈن، وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس اور وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن سمیت ، انتظامیہ کے اعلیٰ ترین عہدے داروں کی شرکت متوقع ہے۔ وہائیٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ صدر اوباما افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد کے بارے میں اپنے اُس فیصلے کا اعلان یہ ہفتہ ختم ہونے سے پہلے نہیں کریں گے، جس کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
ترجمان رابرٹ گِبز نے پیر کے روز کہا ہے کہ رات کے اجلاس میں جنگ کے بارے میں مسٹر اوباما کے کئی سوالوں پر غور کیا جائے گا اور ان میں افغانستان سے امریکہ کی واپسی کی حکمت ِ عملی پر غور و خوض بھی شامل ہے۔
صدر افغانستان میں جنگی کوششوں کو تقویت پہنچانے کے مقصد سے اُس ملک کو مزید 40 ہزار تک فوجی بھیجنےکے لیے افغانستان میں امریکہ کے چوٹی کے کمانڈر جنرل سٹینلی میک کِرسٹل کی ایک درخواست پر غور کررہے ہیں۔
مسٹر اوباما نے اس سے پہلے افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکہ کی کسی نئى حکمت عملی پر غوروخوض شروع کرتے ہوئے اگست میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کا اجلاس طلب کیا تھا۔
صدر اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ سال کے آخر اپنے منصوبوں کا اعلان کریں گے۔