امریکی سپریم کورٹ کے لیے صدر اوباما کی جانب سےنامزد کیے جانے والی خاتون جج سونیا سوٹومیئر کی سینٹ ہیئرنگ 13 جولائی سےشروع ہو رہی ہے۔ اگر سینیٹ نے انکی نامزدگی کی توثیق کر دی تو سونیا سوٹومیئر نو رکنی ہائی کورٹ بنچ کی پہلی ہسپانوی خاتون جج جبکہ موجودہ کورٹ کی جسٹس روتھ بیڈر گینس برگ کے بعد دوسری خاتون جج ہوں گی۔
سونیا سوٹومئیر کا صدر اوباما کی جانب سے سپریم کورٹ کا جج نامزد ہونا ایک بڑی بات ہے۔
سونیا ایک غریب خاتون تھیں جنہوں نے نیویارک کے مضافات سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور فیڈرل جج بنیں۔ اور اب انکی نامزدگی سپریم کورٹ کے جج کے طور پر کی گئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں فیصلے کرتے وقت غیر جانبدار رہتی ہوں اور یہ سوچ کر فیصلہ کرتی ہوں کہ میرا فیصلہ لوگوں کی زندگی پر کس طرح سے اثر انداز ہوگا۔
صدر اوباما کے نزدیک جج سونیا کا انداز، انکا طویل قانونی تجربہ اور قوت ِ فیصلہ انکی نامزدگی کے لیے مضبوط دلیلیں ہیں۔انہوں نے ایک موقع پر اس حوالے سے کہاتھا کہ اور جب جج سونیا سپریم کورٹ کے جج کا حلف اٹھائیں گی تو یہ امریکی تاریخ میں ایک سنگ ِ میل ہوگا اور انکا بطور جج بننے میں یہ پیغام پنہاں ہوگا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔
سینیٹ جوڈیشری کمیٹی میں ریپبلکنز کی جانب سے جج سونیا سے تلخ و سخت سوالات کرنے کا عندیہ دیاگیا ہے۔ ریپبلکنز مشیر ٹام کورولوگوس کے مطابق جج سونیا کی بطور سپریم کورٹ جج تعیناتی صدر اوباما کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان ہوگا۔
1987 میں رابرٹ بروک کی نامزدگی کے خاتمے نے سپریم کورٹ کی تعیناتی کے حوالے سے بہت سے نئے سیاسی محاذوں کو جنم دیا تھا۔
جبکہ اب لبرل اور قدامت پسند افراد جج سونیا کی تعیناتی کے خلاف سرگرم ِ عمل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ڈگ کینڈل واشنگٹن میں لبرل کانسٹی ٹیوشنل اکاؤنٹی بیلٹی سینٹر کے صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے جج سونیا کے فیصلے پسند ہیں۔ انکے فیصلے قانون پر مبنی ہوتے ہیں اور میرے نزدیک ایک جج کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔
بعض قدامت پسند جج سونیا کے چند سال پہلے کہے گئے جملوں کو وجہ ِ تنازعہ بنانا چاہتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک لاطینی خاتون جج اس سفید فام جج کی نسبت بہتر فیصلہ دے سکتی ہے جس نے زندگی میں تلخیوں کا مزہ نہ چکھا ہو۔
جوڈیشل واچ سے منسلک ٹام فٹن کہتے ہیں کہ میرے نزدیک انکی تعیناتی غلط ہے۔ وہ سیاسی رجحانات رکھتی ہیں جبکہ بعض اوقات تلخی کا مظاہرہ بھی کرتی ہیں۔ جبکہ بعض اوقات وہ رنگ و نسل کے حوالے سے تعصب برتتی دکھائی دیتی ہیں۔
فٹن کا کہنا ہے کہ انکے گروپ کی کوشش ہے کہ جج سونیا کی تعیناتی کو رکوایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پچیس ہزار سے زائد افراد کے ای میلز ہیں۔ ہم ان سبھی سے کہیں گے کہ وہ سینیٹرز سے رابطہ کرکے جج سونیا کے حوالے سے اپنے خیالات سے انہیں آگاہ کرکے انکی تعیناتی کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ٹام کورولوگوس کا کہنا ہے کہ جج سونیا کو ریپبلکنز کے تلخ سوالات کا جواب دیتے ہوئے محتاط انداز اختیار کرنا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ چند رپورٹس کے مطابق جج سونیا بعض اوقات تلخی کا مظاہرہ کر جاتی ہیں۔ اگر اس مرحلے پر وہ تلخ ہوئیں تو اسکے منفی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ریپبلکنز کو بھی ان سےسوالات کرتے ہوئے اس بات کو مدِ نظر رکھنا ہوگا کہ زیادہ تلخ سوالات اگلے الیکشنز کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگلے الیکشن کے 38%فیصد ووٹرز ہسپانوی ہوں گے۔ اور جج سونیا کی تعیناتی انکے لیے باعث ِ فخر و انبساط ہے۔ لہذا جج سونیا کے خلاف جانا پوری ہسپانوی کمیونٹی کے خلاف جانے کے مترادف ہے۔
سینیٹ کی کل سو نشستوں میں سے ساٹھ ڈیموکریٹس کے پاس ہیں۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ جج سونیا کانگریس کی ہئیرنگ کا مرحلہ کامیابی سے طے کرکے اپنے عہدے کا حلف اٹھا سکیں گی۔