امریکی صدر براک اوباما نے ملکی بینکوں پر زور دیا ہے کہ وہ چھوٹے کاروبار کے لیے قرضوں کے اجرا سے اُس احسان کا بدلہ چُکائیں جِس کے تحت حکومت نےاِن بینکوں کی بحالی کے لیے ٹیکس دہندگان کی رقم سے اُنھیں امدادی فنڈز فراہم کرتے ہوئے کیا تھا۔
اپنے ہفتہ وار ریڈیو اور انٹرنیٹ خطاب میں صدر نے کہا کہ اقتصادی رفتار تیز کرنے کا اُن کا منصوبہ ایک بڑی کامیابی کی صورت سامنے آرہا ہے۔
مسٹر اوباما نے کہا کہ جب کہ بڑے کاروبار کے لیے قرضے میں کثیر اضافہ دیکھا گیا ہے، وہاں چھوٹے کاروباری اب بھی قرضے کی وصولی کے لیےتگ و دو میں مصروف ہیں، حالانکہ چھوٹے کاروباروں کو ٹیکس میں چھوٹ اور قرضے کی فراہمی میں اخراجات میں کمی جیسے معاملات حکومت کی طرف سے پانچ ارب ڈالر کے امدادی مالی پیکج میں شامل تھے۔
اُن کا کہنا تھا کہ چھوٹے کاروبار ی مراکز میں امریکیوں کی آدھی آبادی برسرِ روزگار ہے، اور گذشتہ 15سالوں میں اِسی شعبے نے 65فی صدروزگار کے نئے مواقع پیدا کیے۔ اُنھوں نے کہا کہ اِنہی کاروباروں کو ملکی معیشت کی بحالی میں آگے بڑھ کے حصہ لینا ہوگا۔
دوسری طرف ری پبلیکن پارٹی کے ایک امریکی سنیٹر نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ آیا نظامِ صحت میں تبدیلی کی موجودہ تجویز معاملات کو بہتر بنادے گی۔
پارٹی کی جانب سے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں سنیٹر مائیک جوہانز نے کہا کہ ہیلتھ کیئر میں اصلاحات کا مجوزہ منصوبہ ہر امریکی شہری کے لیے منفی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔