اوباما انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایسی کمپنیاں جنھوں نے خسارے کے باعث ٹیکس دہندگان کے پیسے میں سے اربوں ڈالر کی امدادی رقوم وصول کیں، اُن کے اعلیٰ انتظامی عہدے داروں کی تنخواہوں میں کافی حد تک کٹوتی کی ہدایت جاری کی جانی چاہیئے، اور ضرورت اِس بات کی ہے کہ ایسی کمپنیاں اپنے طور طریقوں میں خاطر خواہ تبدیلی لائیں۔
عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سات کمپنیاں جِنھوں نےسب سے زیادہ سرکاری امدادی رقوم وصول کیں اُن سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے 25سب سے بڑے تنخواہ دار عہدے داروں کے معاوضے کی رقم کو آدھا کردیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اعلیٰ انتظامی افسران کے تنخواہ کے نظام میں تبدیلی لانا چاہتی ہے تاکہ اعلیٰ عہدے داروں کو اداروں کی طویل المدتی مالی کامیابی کا مفاد عزیز ہو۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مختصر مدت کے فوائد کے حصول کی خاطر اِن کمپنیوں کودانش سے عاری فیصلے پر اکساتا تھا، جِس کا نتیجہ امریکی معیشت کی کئی عشروں کی بدترین کساد بازاری کی صورت میں سامنے آیا۔
ایک مجوزہ اصلاح یہ ہے کہ اعلیٰ منتظمین کو معاوضہ کمپنی کے سٹاک میں حصے داری کی صورت میں دیا جائے جِسے وہ کئی سالوں تک فروخت نہ کر پائیں۔
یہ سات ادارے ہیں: بینک آف امریکہ، سٹی گروپ، اے آئی جی، جنرل موٹرز اور کرائسلر، اور اِس کے علاوہ موٹر سازی کی صنعت کی مالی ذیلی ادارے۔