ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

کچرے سے آرائشی چیزوں کی تیاری

Trash

شیئر کیجیئے


سان فرانسسکو میں کوڑا کرکٹ اکھٹا کرنے والی ایک کمپنی اسے ایک کارآمد استعمال میں لارہی ہے۔  یہ کمپنی گذشتہ پندرہ برسوں کچرے سے مختلف آرائشی چیزیں  بنانے کے لیے فن کاروں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ ان فنکاروں کو کمپنی کے سٹوڈیو تک مکمل رسائی کے ساتھ ساتھ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔

گذشتہ چار ماہ سے ایس ایف ری سائیکل اینڈ ڈسپوزل کمپنی دو فنکاروں جیمز سان سنگ اور ڈیوڈ ہیویل کو آرٹ مٹیریل پہنچا رہی ہے۔  جہاں انہوں نے کچرے میں سے چیزیں نکالنے کے لیے بہت وقت صرف کیا اور 21 ہزار پاؤنڈ  کچرا کو کھنگال کر اسے مختلف چیزوں کی شکل دی۔ 

جیمز سان سنگ نے ناکارہ سمجھ کر پھینک دی جانے والی مختلف مشینوں کو دوبارہ جوڑ کر ایک پراسرار سی چیز بنائی ہے۔ ڈیوڈ بھی اسی سے ملتا جلتا کام کررہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا دکھ ہوتا تھا کہ نئی نئی چیزیں پھینکی جاتی تھیں جبکہ ہم انہیں کام میں لا سکتے ہیں۔ 

جب کہ جیمز سان سنگ کو شکایت ہے کہ جو پروڈکٹس آجکل بنائی جاتی ہیں وہ بہت لمبے عرصے تک نہیں چلتیں۔

2007 ءمیں امریکہ نے 25 کروڑ ٹن کچرا پھینکا۔  مگر اس میں سے کچھ کو یہاں پر کام میں لایا جاتا ہے۔  سان سنگ کا کہنا ہے کہ ایک حالیہ نمائش میں ان دونوں فنکاروں کی سب سے زیادہ پذیرائی کی مستحق وہ تصویر ٹھہری جوکوڑے میں پھینکی جانے والی مختلف تصویروں کو جوڑ کر بنائی گئی تھی۔

جمیز سان سنگ کہتے ہیں کہ میں مختلف پھینکی گئی چیزوں کو کارآمد بنا سکتا ہوں۔  اور یہی ہم کرتے ہیں۔

کمپنی کی جانب سے منعقدہ نمائش میں بہت سے لوگوں نے شرکت کی۔ ڈیوڈ ہیویل کا کہنا ہے کہ ان کا کام سیاسی نہیں ہے بلکہ وہ اس کے ذریعے ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔  ہیویل کا کہنا ہے کہ میں کوئی سیاسی کام نہیں کر رہا۔  میں ایک ایسا فنکار ہوں جو معاشرے کو آئینے میں اس کا عکس دکھا رہا ہے۔ 

سان سنگ کہتے ہیں کہ مجھے امید ہے کہ اس نمائش سے لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد ملے گی کہ انہیں کیا چیزیں پھینک دینی چاہیں اور کیا نہیں۔