ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی کردار کی حوصلہ افزائی کی جائے: حسین حقانی

شیئر کیجیئے


پاکستان کو پانچ سال تک ڈیڑھ ارب ڈالر کی سالانہ امداد کے کیری لوگر بل میں امریکی کانگریس کی طرف سے استعمال کی جانے والی زبان  پر پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں اور اکثر تجزیہ کاروں نے تحفظات کا اظہار تو کیا ہی مگر امریکہ میں بھی پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے اس  رویے پر احتجاج بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی مدد کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔  واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا کہناہے کہ پاکستانی عوام کی سوچ بدلنے کے لیے امریکہ کو بھی دہشت گردی کے مقابلے کے لیے پاکستان کے اقدامات کی قدر کرنا ہو گی نہ کہ اسے تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو یہ تنقید ٹھیس پہنچاتی ہے۔  ہمیں لگتا ہے کہ ہم پر بہت زیادہ تنقید ہوتی ہے۔  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے فوجی ہلاک ہو رہے ہیں اور ابھی بھی امریکہ میں کچھ لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا ہم لوگ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ کیری لوگر بل سے یہ امید کی جا رہی تھی کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان شک کو ختم اور تعلقات کو مضبوط کرے گا۔  اور پاکستانی عوام کو یہ ثبوت ملے گا کہ امریکہ اب پاکستان کو مشکلات میں اکیلا چھوڑ کر نہیں چلا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ بیس سال کے دوران دونوں اطراف سے ایسے اقدامات کیے گئے جس کی وجہ سے یہ صورتِ حال پیدا ہوئی۔  انہوں نے کہا کہ بار بار ماضی کو سامنے لانے کے بجائے امریکہ کو پاکستان کے جذبات کو سمجھنا ہو گا۔

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ تیس سال پہلے اگر امریکہ نے ہمیں اس وقت دی جانے والی امداد کو تین گناہ کرنے کی پیشکش کی ہوتی،  تو کسی قسم کے شبہات نہ ہوتے چاہے کچھ بھی ہو۔  یہ دیکھے بغیر کہ زبان کیا تھی۔  یہ زبان اعتبار نہ ہونے کا انکشاف کرتی ہے۔ کانگریس نے سمجھا  کہ اسے یہ زبان شامل کرنا ہو گی کیونکہ کانگریس میں ایسے لوگ ہیں جو اعتبار نہیں کرتے۔  انہوں نے یہ لازمی جانا کہ یہ شرائط شامل کی جائیں اور کہا جائے کہ فلاں اقدام لازمی کیا جائے اور ایسا نہ ہو جیسا ماضی میں ہوا۔  یہ انگلی اٹھانے کے مترادف تھا۔  ایسے تھا جیسے لیکچر دیا جا رہا ہو۔  پاکستانیوں کو یہ اچھا نہیں لگا اور درست طور پر پاکستانیوں کو بے عزتی محسوس ہوئی۔

پاکستان کی حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے استحکام اور سکیورٹی کے لیے لازم ہے۔  حسین حقانی کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کا اعتبار جیتنے کے لیے امریکہ کو افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے خدشات بھی سننے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک یہ کہ افغانستان غیر مستحکم نہ ہو۔  یہ ایسا ملک  نہ بن جائے جیسا طالبان کے طاقت میں آنے سے پہلے اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد تھا،  جب وہاں خانہ جنگی جاری تھی۔  جس کے نتائج ہمیں بھگتنے پڑے۔  اور ہم یقیناً یہ نہیں چاہتے کہ افغانستان دوسرے ممالک کی ان سازشوں کا گڑھ بن جائےجو پاکستان کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔

جنوبی ایشیا کے لیے سابق امریکی نائب وزیرِ خارجہ کارل انڈرفرتھ کا کہنا ہے کہ ماضی کے حقائق اپنی جگہ مگر امریکہ اور پاکستان دونوں یہ جانتے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ ہل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو اکٹھے کام کرنا ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ آج افغانستان کو جن خطرات کا سامنا ہے اگر ان کا مقابلہ نہ کیا گیا۔  تو یہ پاکستان میں داخل ہو جائیں گے یہ  امریکہ پر بھی اثر انداز ہو گا۔  ہمیں ایک مشترکہ خطرے کا سامنا  ہے۔  اس لیے ہمیں مل کر اس مسئلے پر کام کرنا ہے ہم  اس وقت تک افغانستان سے نکل نہیں سکتے جب تک وہاں استحکام نہ آ جائے۔

حسین حقانی نے کہا کہ ماضی میں آئی ایس آئی اور جہادی تنظیموں کے تعلقات کی بات کرتے ہوئے یہ بھی یاد رکھا جانا چاہیے کہ سی آئی اے بھی اس سارے عمل میں شامل تھی۔  اور یہ کہ اب پاکستان کی افواج ان عسکریت پسندوں کے خلاف بھر پور کاروائی کر رہی ہیں۔