امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حالیہ واقعات کوپاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے کسی خطرے کے طور پر نہیں دیکھتا۔ واشنگٹن میں ایک مذاکرے کے دوران ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو کو روکنا اوباما انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر ویانا میں مذاکرات کرنے والی ایرانی ٹیم کی طرف سے یورینیم کو مزید افزودگی کے لیے ملک سے باہر بھیجنے کے حوالے سے تیار کیے گئے ڈرافٹ کو منظوری کے لیے ملک میں لے جانے پر رضا مندی ظاہر کرنے کے کچھ دیر بعد ہی امریکی وزیرِ خارجی ہیلری کلنٹن نے واشنگٹن میں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاو کے حوالے سے تقریر کی اور کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو کو روکنا اوباما انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
تقریر کے دوران وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کا فوکس ایران پر تو نہیں تھا مگر انہوں نے کہا کم افزودہ کی ہوئی یورینیم کو جلد ایران سے باہر بھیجا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے لیے ایک بہتر مستقبل کے دروازے کھلے ہوئے ہیں مگر ایران کے ساتھ امریکہ کی سفارتی کوششیں غیر مشروط نہیں۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور گزشتہ ہفتے آرمی ہیڈ کواٹرز پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کی ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے حوالے سے امریکی تجزیہ کاروں کی تشویش پر ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ کو یہ یقین دلایا ہے کہ اس کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے گزشتہ ہفتے حکومتی عمارتوں, ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں پر طالبان القاعدہ اور دیگر انتہا پسند گروپس کی طرف سے کیے جانے والے دہشت گرد حملے دیکھے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ حملے ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول حاصل کرنے یا اس تک پہنچنے کے لیے کسی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مگر ہم نے اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے اور کافی سولات بھی پوچھے ہیں اور ہم ان انتہا پسندوں سے لڑنے کے لیے پاکستانی حکومت کی کوششوں کا ساتھ دے رہے ہیں جو ہمارے خیال میں سب سے اہم قدم ہے جو وہ اٹھا سکتے تھے۔
ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس کے ایٹمی پروگرام پر قبضہ کر کے اسے ختم کرنےکے حوالے سے امریکہ کے بارے میں جو غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں امریکی حکومت ان افواہوں کا فوراً جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔ مگر اب ان کا ادارہ ایسی جھوٹی خبروں کا دفاع کرنے کے لیے فوراً جواب دیا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک نئی حکمتِ عملی اپنائی ہے جو یہ ہے کہ ہم ہر غلط خبر اور افواہ کی وضاحت کریں۔ شاید شروع میں لوگ ہماری بات کا اعتبار نہ کریں مگر ہم اس منفی پراپیگنڈے کا مقابلہ سچ سے کریں گے جو بہترین ہتھیار ہے۔ اور ہم پاکستانی میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے سلسلے کو بڑھائیں گے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ امریکہ کے حوالے سے پاکستان میں بے اعتباری پیدا ہوئی ہے۔
وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا پاکستانیوں کے تحفظات پر بات کرنے کے لیے ایک نئی ٹیم کو پاکستان بھیجا جا رہا ہے جس کا پبلک افیئرز آفس وہاں قائم کیا جا چکا ہے۔
ہیلری کلنٹن نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور ملٹری یہ جانتی ہے کہ ہم پاکستان سے ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤکے خطرے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مگر امریکہ مطمئن ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا نیٹ ورک ٹوٹ چکا ہے۔