ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

صدر اوباما کا دورہ جاپان: فوجی اڈے کی منتقلی پر بات ہو گی

شیئر کیجیئے


توقع ہے کہ اس ہفتے صدر اوباما کے ٹوکیو کے دورے میں جاپانی جزیرے اوکی ناوا میں امریکی فوجی اڈے کی از سر نو منتقلی ایجنڈے پر سر فہرست ہوگی۔ امریکہ اور جاپان تین سال پہلے اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ اس مرکز کو پانچ سال کے دوران جزیرے کے کسی دوسرے حصے میں منتقل کردیاجائےگا۔  لیکن جاپان کی نئی انتظامیہ اس منصوبے کو مؤخر کرنا چاہتی ہے۔
امریکی میرین کور کافضائی مرکز فوٹنما جاپان کے جنوبی جزیرے اوکی ناوا کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع ہے۔ رہائشی اور کاروباری عمارتوں سے گھر ے ہوئے اس مرکز کومیرین زیادہ تر اس مرکز کو ہیلی کاپٹر وں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 
اس مرکز میں دو ہزار میرین فوجی رہتے ہیں اور یہ اوکی ناوا کے رہائشیوں کو ایک عرصے سے اس مرکز کے بارے میں شکایات ہیں۔  وہ یہاں ہوائی جہازوں کے شور کی شکایت کرتے ہیں۔  کبھی کبھار رونما ہونے والے حادثات کے باعث انہیں حفاظت کے بارے میں خدشات ہیں۔ ایک گنجان آباد کمیونٹی میں اس فوجی مرکز کو رہائشی اور کاروباری نوعیت کی زمین کے طورپر دیکھا جاتا ہے۔
2006 ءمیں جاپان اور امریکہ اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ فوٹنما کو بند کرکے اسے میرین کے کسی اور اڈے پر منتقل کردیا جائے گا۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ اوکی ناوا سے آٹھ ہزار میرین فوجیوں کو امریکی علاقے گوام میں بھیج دیا جائے گا۔
یہ منصوبہ 15 سال تک جاری رہنے والی گفت و شنید کے بعد طے پایا تھا لیکن جاپان کی نئی حکومت اس پر نظرثانی کرنا چاہتی ہے۔
جاپانی وزیر اعظم یوکیو ہاتویاما اور ان کی ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان کی اگست کے تاریخی انتخاب میں کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے 2006ء کے اس معاہدے پر نظر ثانی کی بات کی تھی۔  اوکی ناوا سے تعلق رکھنے والے اس پارٹی کے چار ارکان نے جزیرے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی میں کمی کے وعدے کی بنیاد پر پارلیمنٹ کی نشستیں جیتی تھیں۔ 
جاپان کے ایک قومی اخبار کی جانب سے کرائے گئے رائے عامہ کے ایک حالیے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ اوکی ناوا کے لگ بھگ 70 فی صد باشندوں نے کہا کہ وہ فوجی مرکز فوٹنما کی کسی اور جزیرے میں منتقلی کے خلاف ہیں۔ تقریباً اسی تناسب سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم یوکیو ہاتو یاما کو امریکہ کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کرنی چاہیئے کہ اس مرکز کو جاپان سے باہر منتقل کردیا جائے۔
تاہم امریکہ نے اس خیال کو مسترد کردیا ہے۔  گذشتہ مہینے ٹوکیوکے اپنے دورے میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا تھا کہ اس معاہدے پر ازسرنو گفت و شنید کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اوکی ناوا رقبے کے لحاظ سے جاپان کا سب سے چھوٹا جزیرہ ہے لیکن جاپان میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کے فوجی عملے کے 47 ہزار ارکان میں سے تقریباً نصف اس جزیرے پر رہتے ہیں۔
اوکی ناوا کے باشندوں کا کہنا ہے کہ اس امریکی اڈے کی جزیرے کے کسی شمالی دیہی حصے میں منتقلی سے جنگلی حیات کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2006 ء معاہدے پر عمل سے ڈی پی جے کے انتخابی وعدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
اب تک مسٹر ہاتو یاما نے اس مسئلے پر کوئی ٹھوس موقف اختیار نہیں کیا ہے۔  انہوں نے صرف یہ کہا ہے کہ جاپان کسی فیصلے کے لیے دباؤ میں نہیں آئے گا۔  وہ اس منصوبے پر نظرِ ثانی کرنا چاہتے ہیں اور کسی ایسے نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں جس پر اوکی ناوا کے باشندے متفق ہوں۔
مسٹر اوباما جب جمعے کو جاپان پہنچیں گے تو وہ اور وزیر اعظم ہاتویاما ایک مشترکہ پریس کانفرنس منقعد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔  لیکن دونوں فریق پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں ان توجہ کا مرکز فوٹنما کی از نو منتقلی نہیں ہوگی اور یہ کہ یہ مسئلہ کسی دو روزہ دورے میں حل نہیں ہوگا۔