صدر اوباما کی طرف سے افغانستان میں اگلے اقدام پر غور و خوض جاری ہے اور اِس دوران امریکی قانون سازوں کو دفاعی اور علاقائی ماہرین کی طرف سے طالبان اور القاعدہ کو شکست دینے کی حکمت عملی کے بارے میں مسلسل مشورے مِل رہے ہیں۔
افغانستان میں امریکی پالیسی کے بار ے میں امریکی کانگریس کے ارکان کے سامنے ماہرین نے اَن گنت سفارشات پیش کی ہیں۔ بہت سی سماعتوں میں، ہزاروں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے فائدے اور نقصانات، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے انسداد یا بغاوت کو کچلنےکی حکمت عملی، دونوں ملکوں میں طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلق، اور کابل میں صاف ستھری حکومت کی اہمیت پر بحث کی گئی۔ کمیٹیوں میں بریفنگ دینے والوںمیں امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کے ریزیڈنٹ اسکالر فریڈ کاگن بے شامل تھےجِنھوں نے صدر اوباما کے لیے افغانستان میں نیٹو اور امریکی فوجوں کے کمانڈر، جنرل
اسٹیلی میک کرسٹل کی سفارشات کی تشکیل میں مدد دی تھی۔
کاگن کہتے ہیں کہ صدر اوباما، فوجی لیڈروں، اور سویلین مشیروں، سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہیئے کہ افغانستان میں ہمارے مقاصد کیا ہیں۔ دہشت گردی کے انسداد کی حکمت عملی میں بغاوت کو کچلنے کی حکمت عملی بھی شامل ہونی چاہیئے۔
کاگن کہتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ اور طالبان کے گروپوں کے درمیان کوئی اہم نظریاتی فرق نہیں ہے۔
یونیورسٹی آف شکاگو میں سیاسیات کے پروفیسر رابرٹ پاپے کا خیال ہے کی جنرل میک کرسٹل نے جو ہزاروں مزید فوجی مانگے ہیں، ان سے نہ تو کامیابی کی ضمانت مِل سکتی ہے اور نہ ہی افغانوں کی تحریکِ مزاحمت اور دہشت گردی میں کوئی کمی آئے گی کیوں کہ ان کے خیال میں وہ اپنے ملک پر غیر ملکی قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
پاپے کہتے ہیں کہ امریکہ کو چاہیئے کہ وہ افغان فوجوں کو تربیت اور سازو سامان فراہم کرے، اور دور فاصلے سے فضائی اور بحری طاقت سے ان کی مدد کرے۔ ان کے الفاظ ہیں: ‘اسی حکمت عملی سے 2001 میں طالبان کا تختہ الٹا گیا تھا جب ملک کا نوّے فیصد حصہ ان کے قبضے میں تھا۔ کابل کو طالبان کے قبضے میں جانے سے محفوظ رکھنے، انہیں افغانستان میں دہشت گردوں کے کیمپ قائم کرنے سے روکنے، اور طالبان اور القاعدہ کے لیڈروں کو افغانستان کے وسیع علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں بنانے سے روکنے کا بہترین طریقہ یہی ہے۔ ’
افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے صدارتی انتخاب دوبارہ کرانے کے فیصلے سے امریکی قانون سازوں کو بڑا طمینان ہوا ہے کیوں کہ انہیں فکر تھی کہ افغان عوام میں ایک ایسی حکومت کے بارے میں ناراضگی سے جسے عام طور سے بد عنوان سمجھا جاتا ہے، ملک میں عدم استحکام اور غصہ بڑھ جاتا۔ ڈیموکریٹک کانگریس مین آڈم اسمتھ نے ایوانِ نمائندگان میں آرمڈ سروسز ٹررزم سب کمیٹی کی سماعت کی صدارت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ صدر کرزئی کے اس فیصلے سے ایسا انتخاب ممکن ہو جائے گا جو نقائص سے پاک ہو لیکن اب بھی بہت سی دشواریاں باقی ہیں۔ ان کے الفاظ:
‘سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ افغانستان میں ایسا پارٹنر، ایسی حکومت، کوئی ایسا قبائلی نظام، یا لوگوں کا کوئی ایسا گروپ تلاش کیا جائے جس کے ساتھ ہم کام کر سکیں، اور جسے طالبان کے مقابلے میں موئثر
حکومت کے لیئے افغان عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔ ’
گذشتہ جمعرات کو ایوانِ نمائندگان کی اسپیکرنینسی پیلوسی نے بھی افغان حکومت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی فوجوں کو آج کل زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیوں کہ بُش انتظامیہ نے تمامتر توجہ عراق کو دی اور افغانستا ن کو نظر انداز کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں صاف ستھری حکومت نہ ہونے کی وجہ سے، ہم ایک قابلِ اعتماد پارٹنر سے محروم ہو گئے ہیں۔
ڈیموکریٹک سینیٹر رابرٹ برڈ نے دو ہفتوں میں دوسری بار صدر اوباما کو افغانستان کے بارے میں ایک وارننگ دی۔ انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کو افغانستان میں اپنے مشن کو محدود کرنا چاہیئے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری قومی سلامتی کا تقاضہ ہے کہ ہم القاعدہ کو شکست دیں بلکہ اسے تباہ کریں۔
ہمیں صرف اسی مشن کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے ورنہ ہمارے ملک کا نام بھی ان ملکوں کی طویل فہرست میں شامل ہو جائے گا جن کے بہترین منصوبے اس دور دراز ملک، یعنی افغانستان کے سرد، اجاڑ ڈھلوانوں پر موت کی نیند سو گئے۔
تا ہم، فوج کے سابق اور بہت سے موجودہ ارکان میں جو امریکی کانگریس اور انتظامیہ کو مشور ے دے رہے ہیں، جنرل بیری میک فرے اورلیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ بارنو بھی شامل ہیں جِنھوں نے افغانستان میں 2005 تک امریکی فوجوں کی کمان کی تھی۔ ان دونوں نے ایک کانگریشنل کمیٹی سے کہا کہ ہماری یہ خلاقی ذمے داری ہے کہ ہم نے افغانستان کے لوگوں سے جو وعدے کیئے ہیں وہ پورے کریں۔
افغانستان کے بارے میں ابھی بحث جاری تھی کہ کانگریس نے ایک سو تیس ارب ڈالر کا ایک قانون پاس کر دیا۔ اس رقم سے عراق اور افغانستان میں امریکی کارروائیوں کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ عراق سے امریکہ جلد ہی صدر اوباما کے پلان کے تحت اپنی فوجیں نکالے گا۔
وہائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری رابرٹ گِبز نے کہا بُش انتظامیہ افغانستان کو مطلوبہ فوجیں اور وسائل بھیجنے میں نا کام رہی۔