واشنگٹن کا نیشنل کیتھیڈ رل
امریکی عبادت گاہیں صرف مذہبی رسوم کی ادائیگی کا مقام ہی نہیں بلکہ دنیاوی سرگرمیوں کے لحاظ سے بھی انہیں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ واشنگٹن کے نیشنل کیتھیڈرل میں، جسے امریکی کانگریس نےنیشنل ہاؤس آف پرئیر ِ نامزد کیا گیا ہے، حال ہی میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے امریکی مسلمانوں پر بنائی گئی، ایک ڈاکیومینٹری فلم جرنی ان ٹو امریکہ دکھائی گئی۔ اس فلم کے ڈائریکٹر امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اکبر احمد ہیں۔
بین المذاہب مکالموں کے سلسلہ میں یہاں امریکی مسلمانوں کے بارے میں آگاہی کو اجاگر کرنے کے لیے امریکی مسلمانوں پر مبنی دستاویزی فلم جرنی ان ٹو امریکہ دکھائی گئی۔ ڈاکٹر اکبر احمد کی یہ دستاویزی فلم ان کی کتاب جرنی ان ٹو اسلام پر مبنی ہے۔ جس میں انہوں نے پانچ امریکی طلبا کے ساتھ مختلف مسلمان ممالک کا دورہ کیا تھا اور امریکہ سے باہر امریکہ کے بارے میں مسلمانوں کے خیالات جاننے کی کوشش کی تھی۔
جرنی ان ٹو امریکہ میں انہوں نے اسی ٹیم کے ساتھ امریکہ کے مختلف شہروں میں آباد مسلمانوں کے خیالات کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے اور یہ جاننا چاہاہے کہ مسلمان امریکی معاشرے اور امریکی معاشرہ مسلمانوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے 70 سے زیادہ امریکی شہروں اور 100 مساجد میں مسلمانوں سے ملاقاتیں کیں۔ اور اسے ایک دستاویزی فلم کی شکل دی۔ یہ فلم ان دنوں مختلف امریکی یونیورسٹیوں میں بھی دکھائی جا رہی ہے۔
فلم کی رو نمائی کے بعد ڈائریکٹر اور مصنف پروفیسر اکبر کے معاون طلبا فرینکی مارٹن اور جاناتھن ہیڈن نے وہاں موجود لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
فرینکی مارٹن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلمانوں کو اپنا مثبت تشخص کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ مغربی دنیا انھیں سمجھ سکے۔
فرینکی کا کہنا تھا کہ امریکہ سے باہر مسلمانوں کا خیال ہے کہ مسلم قوم کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ مغربی دنیا اور خاص طور پر امریکہ میں انکے خلاف پایا جانے والا منفی ردعمل ہے۔
جاناتھن ہیڈن نے باہمی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہناتھا کہ مسلمانوں کو سیاست میں آنا چاہئے، میڈیا میں اپنے قدم جمانے اور امریکہ میں اپنے تشخص کو بہتر کر نے کی کوشش کرنی چاہئے۔ میرے خیال سے جب لوگ اسلام کو صحیح طور سے سمجھتے ہیں تو یہ بلاشبہ ایک پرکشش مذہب ہے۔
لوئس ڈین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال سے فلم بہت اچھی تھی۔ مجھے دکھ ان منفی باتوں پرہے جو کچھ امریکیوں نے کی۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہمیں امریکی سکولوں میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے بارے میں بہتر تعلیم کی ضرورت ہے۔
حمزہ خان نے کہا کہ ایک مسلمان کے لحاظ میں نے محسوس کیا کہ اسلام کا بہتر امیج پیش کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ اسلام کو سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں اور مسلمانوں کے لیے ایک ڈائیلاگ ہے جو جاری رہنا چائیے۔
زرگاتو رومانوکا کہناتھا کہ یہ ایک اہم ذریعہ ہے جس کے ذریعے عیسائی، یہودی اور دوسرے مذاہب اسلام کو سمجھ سکتے ہیں۔
لینا معظم کا خیال تھا کہ یہ فلم ایک مثبت کردار ادا کرسکتی ہے اس چیز کو بدلنے میں کہ لوگ اسلام کو جو سمجھتے ہیں اسلام وہ نہیں۔
ایلس رومانونے فلم کےبارے میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جو سب سے اچھی بات لگی وہ محبت اور امن کا پیغام تھا جو فلم بنانے والوں نے فلم کے ذریعے دینا چاہا۔ حتی کہ ان کے لیے بھی جو متعصب ہیں۔
واشنگٹن نیشنل کیتھیڈرل، چرچ آف سینٹ پیٹرز اینڈ سینٹ پال، دنیا کا چھٹا اور امریکہ کا دوسرا بڑا گرجا گھر ہے۔ اپنی پر شکوہ عمارت اور خوبصورت فن تعمیر کے باعث امریکن انسٹی ٹیوٹ آف آرکی ٹیکٹ نے اسے امریکہ کی قابل دید عمارات کی فہرست میں چوتھا نمبر دیا ہے۔