ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

مسائل کا حل: جاگنگ

شیئر کیجیئے


کئی بڑے امریکی شہروں کی طرح فلاڈیلفیا کے عہدے دار اپنا بہت سے وقت اور فنڈز بے گھر افراد کی مدد پر صرف کرتے ہیں۔ لیکن اسی شہر میں رہنے والی ایک 27 سالہ خاتون این ماہلم اس حوالے سے اپنا ایک منفرد پروگرام چلارہی ہیں۔ وہ بے گھر افراد کی مدد کے لیے اپنی پرکشش ملازمت کو خیرباد کہہ کر اپنا زیادہ تر وقت اپنے کلب پر صرف کرتی ہیں جس کا نام ہے ’بیک آن مائی فیٹ رننگ کلب‘، یعنی یعنی  دوڑ کے ذریعے اپنی صلاحیتیں ابھارنے کا کلب۔

سورج طلوع ہونے والا ہے اور این ماہلم فلاڈیلفیا میں ایک پٹرول پمپ کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ موجود ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ہر روز کی طرح میں آج صبح بھی دوڑنے کے لیے آئی ہوں۔

دوسال قبل ماہلم صبح دوڑنے کے لیے اکیلی آتی تھیں۔وہ کہتی ہیں کہ جب  شروع میں  میں صبح دوڑنے کے لیے یہاں آتی تھی، تو یہاں کئی لوگ مجھے حیرت سے دیکھتے تھے۔میرا تعلق نارتھ ڈکوٹا سے ہے۔ میں انہیں مسکرا کردیکھتے ہوئے ہاتھ ہلادیتی تھی۔ شروع میں تو انہوں نے مجھے خبطی سمجھا لیکن جب میں نے یہ سلسلہ جاری رکھا توانہوں نے اس صورت حال کو قبول کرلیا۔
این کا کہناہے کہ دوڑ ان کی زندگی میں اس وقت شامل ہوئی جب وہ  16 سال کی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کے والد کے نشے کی عادت نے ماں باپ میں علیحدگی کردی تھی۔وہ کہتی ہیں کہ دوڑنے کی عادت نے انہیں اس کیفیت سے نکلنے میں روحانی سہارا دیا۔وہ گذشتہ دس سال سے یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہلم کہتی ہیں کہ دوڑ نے مجھے نظم و ضبط اور احترام سکھایا۔اس سے مجھے اپنے زندہ ہونے کا احساس ہوتا ہے اور مجھے اس احساس سے بہت خوشی ہوتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے۔ جب میں ان لوگوں کو دیکھتی ہوں تو مجھے اپنے والد کی یاد آتی ہے اور میں سوچتی ہوں کہ مجھے دوسری بار یہ موقع ملا ہے۔

این نے بے گھر افراد کے ایک مقامی شیلٹر سے  ایک رننگ کلب قائم کرنے کی اجازت حاصل کی۔ اس کلب کی ابتدا نو ارکان سے ہوئی۔
وہ کہتی ہیں کہ کلب کے قیام کا  پہلا ہفتہ گذرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ واقعی ان لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کی جانب ایک پہلا قدم ہے۔
کلب کے قیام کے چند ہفتوں کے بعد این نے اپنی پرکشش ملازمت چھوڑ دی اور اپنا سارا وقت کلب کے امور پر صرف کرنے لگی۔انہوں نے ’بیک آن مائی فیٹ‘ کے  نام سے ایک غیر منافع بخش تنظیم بنائی۔ان کا مقصد دوڑ کے ذریعے لوگوں میں ڈسپلن اور عزت نفس  کے جذبات پیدا کرنا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ ان کی تنظیم اپنے ارکان کی تعلیم اور روزگار کے حوالے سے بھی راہنمائی کرتی ہے۔

صبح کی جاگنگ  کے دوران نصف فاصلے تک  جیمز تھورپے قیادت کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا احترام کیا جائے، اس لیے لوگ اس تنظیم میں شامل ہوناچاہتے ہیں۔

کلب کے ارکان ہفتے میں تین بار طلوع آفتاب سے قبل دوڑ کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ تنظیم کے ارکان پر پابندی ہے کہ وہ شراب نوشی اور منشیات سے دور رہیں گے اور وہ لازمی طورپر ملازمت سے متعلق کونسنگ میں حصہ لیں گے۔جیمز کہتے ہیں کہ میں نے35 سال تک نشہ کیا۔ میں  نے اسے چھوڑے کی بہت کوشش کی مگر نہ چھوڑ سکا۔ میں اس کلب میں اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کےلیے شامل ہوا ہوں۔
جب این نے رننگ کلب شروع کیا تو کئی لوگوں کو اس بارے میں شبہ تھا کہ محض صبح کی جاگنگ سے پیچیدہ معاشرتی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ لیکن این کا کہنا ہے کہ  کسی بھی کامیابی کا پہلا قدم اپنی  عزت نفس  کی بحالی ہے۔اس سے انسان میں اعتماد آتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ وہ لوگ جو پہلے اپنی زندگی تک سے بےزار ہوچکے تھے، اب ان کے چہروں پر مسکراہٹیں دکھائی دیتی ہیں اور وہ خود پر فخر کرنے لگے ہیں۔
دو سال پہلے جب این نے فلاڈیلفیا میں اپنا کلب’ بیک آن مائی فیٹ‘ شروع کیا تھا تو کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کلب اتنا پھلے پھولے گا۔ لیکن اس وقت کلب کے ارکان کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور بالٹی مور اور واشنگٹن ڈی سی میں اس کی  شاخیں قائم ہوچکی ہیں۔
این کہتی ہیں کہ  دوڑنا زندگی کی علامت ہے۔جب آپ ایک میل کا  سفر طے کرتے ہیں تو دوسرا سنگ میل آپ کےاستقبال کامنتظر ہوتا ہے۔پھر آپ آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں اور یہی زندگی ہے۔