ایک حالیہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں پچھلے سال چارکروڑ60 لاکھ افراد سے زیادہ افراد کے پاس کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں تھی۔ اب جب کہ ملک میں ہیلتھ کیئر میں اصلاحات لانے کوششیں کی جارہی ہیں، امریکہ کے شہر سان فرانسسکو نے ہیلتھ انشورنس سے محروم رہائشیوں کی صحت کی دیکھ بھال کی سہولتوں کی باآسانی فراہمی کے لیے اپنا ایک سستا پروگرام شروع گیا ہے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے تک لگ بھگ آٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل اس شہرمیں 60 ہزار سے زیادہ بالغ رہائشیوں کےپاس کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں تھی۔ گذشتہ دو سال کے دوران ان میں سے تین چوتھائی افراد نے ’ Healthy San Francisco‘ نامی اس پبلک پروگرام میں اپنی رجسٹریشن کرائی ہے۔ اس منصوبے کے تحت صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی اور انہیں مربوط کرنے کے لیے شہر میں پہلے سے موجود زیادہ تر کلینکس اور فلاحی اسپتالوں کو استعمال کیا جارہاہے، لیکن پروگرام کادائرہ صرف شہری حدود کے اندر تک ہے۔ اس پروگرام کا منصوبہ شہر کے میئر گیون نیو سم نے 2006ء میں پیش کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ایک عوامی منصوبہ ہے، جسے لوگ اختیار کرسکتے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ جب آپ یہاں آئےتھے تو آپ نے سٹی ہال پر امریکی پرچم ضرور دیکھا ہوگا۔ ہم نے اس کی جگہ کینیڈا کا جھنڈا نہیں لگایا۔ اس منصوبے سے کوئی آسمان نہیں گرا اور نہ ہی دنیا ختم ہوئی ہے۔
سان فرانسسکو کاپروگرام انشورنس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس پروگرام کے تحت مریض ایک میڈیکل ہوم کا انتخاب کرتے ہیں جو شہر کے 30 پبلک یا پرائیویٹ ہیلتھ سینٹرز میں سے ایک ہوتا ہے۔ جہاں وہ سستے یا مفت علاج کے لیے جاتے ہیں۔
فل ووپندرہ سو کلو میٹرکے فاصلے پر واقع ایک پرنٹنگ پریس میں کام کرتے تھے۔ جب انہیں اپنی بوڑھی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے ملازمت چھوڑنا پڑی تو ان کی ہیلتھ انشورنس بھی جاتی رہی۔ وو ہائی کولیسٹرول اور ہائی پرٹنشن کے مریض ہیں۔ وہ چائنا ٹاؤن پبلک ہیلتھ سینٹر میں گئے تھے اور اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر البرٹ یو نے ان کی رجسٹریشن سان فرانسسکو کے صحت سے متعلق پروگرام میں کردی۔
وہ کہتے ہیں کہ اس پروگرام میں ہم صحت کی دیکھ بھال کے لیے سپیشلٹ کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں اورضروت پڑنے پر ایمرجنسی روم سے رابطہ کرتے ہیں۔
میئر نیو سم کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے پروگرام میں مڈل مین کا کردار ختم کردیا ہے۔ ہم نے علاج کے اخراجات کے لیے انشورنس کمپنیوں سے چھٹکارہ پا لیا ہے۔ اور ہم یہ رقم خود ادا کرتے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت ہر ماہ تین سو ڈالر فی مریض خرچ ہوتے ہیں۔ رجسٹریشن کرانے والے اپنی آمدنی کے حساب، یا تو انہیں بالکل کوئی فیس نہیں دینی پڑتی یا وہ 20 سے 200 ڈالر تک ماہانہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسے کچھ سہولتوں کے لیے جزوی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ لیکن اس سے تمام خرچے پورے نہیں ہوتے۔
سان فرانسسکو کے کاروباروی اداروں نے شہری حکومت کے خلاف اس قانونی تقاضے کی بنا پر مقدمہ دائر کیا تھا کہ وہ فی ملازم کی صحت کی دیکھ بھال کے لیے فی گھنٹہ ایک ڈالرسے زیادہ ادا کرے۔ یہ رقم یا تو ملازموں کی صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کی ادائیگی پر استعمال کی جاسکتی ہے یا پھر وہ سان فرنسسکو کے صحت کے پروگرام میں دی جاسکتی ہے۔ کچھ ریستورانوں نے اس اضافی خرچ کو اپنے صارفین کے بلوں میں سرچارج کے طور پر شامل کردیا ہے۔
کیلی فورنیا کے قانون کے تحت شہروں اور کاؤنٹیز کے لیے مریضوں کا علاج کرانا لازمی ہے، چاہے مریض کوئی ادائیگی کر سکے یا نہ کرسکے۔ سان فرانسسکو کے عہدے داروں کا کہناکہ یہ نیا پروگرام ہیلتھ انشورنس سے محروم افراد کے علاج کا ایک بہتر نظام فراہم کرتا ہے اور ہر ہفتے چھ سو سے سات سوتک نئے مریض اس پروگرام میں اپنی رجسٹریشن کروا رہے ہیں۔