امریکی صدر براک اوباما نے منگل کے روز میامی میں ملک کے سب سے بڑے شمسی توانائی کے پلانٹ کا دورہ کیا۔ متبادل توانائی حامیوں کو توقع ہے کہ اس پلانٹ کے قیام سے اس شعبے میں ترقی کی رفتار مزید بڑھے گی۔
صدر اوباما نے پلانٹ کے عہدے داروں کے ساتھ وسطی فلوریڈا کے توانائی کے اس نئے پلانٹ کا معائنہ کیا جس میں 90 ہزار سے زیادہ شمسی پینلز لگائے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ اس پلانٹ سے تین ہزار سے زیادہ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکے گی اور کوئلے سے چلنے والے روایتی بجلی گھروں کی طرح اس پلانٹ سے کاربن گیسیں بالکل خارج نہیں ہوں گی۔
صدر اوباما نے کہا ہے کہ وہ متبادل توانائی کی تنصیبات قائم کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکہ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا شمسی توانائی کا پلانٹ سورج کی روشنی سے بھرپور ریاست کے شہریوں کو شمسی توانائی کے ذریعے بجلی فراہم کرے گا۔
اگرچہ فلوریڈا کو ’سن شائن سٹیٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ریاست اب تک شمسی توانائی کی پیداوار کے حوالے سے دوسری ریاستوں سے پیچھے ہے۔ فلوریڈا کے توانائی کے شعبے کا کہنا ہے کہ اس کے شمسی توانائی کے آرکیڈیا پلانٹ 25 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی، جس سےیہ ملک کا کم ازکم اب تک کا سب سے بڑا پلانٹ بن جائے گا۔ادارے کا کہنا ہے کہ فلوریڈا میں شمسی توانائی کے دو اور پلانٹ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جن میں ایک ایسا پلانٹ بھی شامل ہے جو آرکیڈیا کے پلانٹ سے تین گنا زیادہ بجلی پیدا کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 15 کروڑ ڈالر سے تیار ہونے والا یہ پلانٹ دوسری ٹیکنالوجیز کی نسبت زیادہ مہنگا ہے اور اس سے ریاست میں توانائی کی بہت قلیل ضروریات پوری کی جاسکیں گی۔
لیکن یونیورسٹی آف فلوریڈا کے شمسی توانائی کے مرکز کے ڈائریکٹر جم فینٹن کہتے ہیں کہ ان اخراجات میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کی قیمتوں میں ہر سال اوسطاً تقریباً 30 فی صد کمی واقع ہورہی ہے جب کہ معدنی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روایتی طریقوں سے حاصل کردہ بجلی کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔
جم فینٹن کا کہنا ہے کہ تین سال کے اندراندر بڑے شمسی پلانٹوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتیں یقینی طور کوئلے یا تیل کے پلانٹس سے بننے والی بجلی کے مساوی ہوجائیں گی۔
کیلی فورنیا اور نواڈا میں توانائی کے شعبے کے ماہرین بھی شمسی توانائی کی اہمیت محسوس کررہے ہیں اور وہ بھی آئندہ مہینوں میں نئے شمسی پلانٹس تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ چین کی حکومت نے بھی ایک امریکی فرم کو ایک بڑے شمسی پلانٹ بنانے کے لیے کہا ہے جو فلوریڈا کے اس نئے پلانٹ سے 80 گنا زیادہ بجلی پیدا کرے گا۔
فلوریڈا میں متبادل توانائی کے حامی ایک ادارے ’سدرن الائنس فار کلین انرجی‘ کے ڈائریکٹر سٹیو سمتھ کہتے ہیں کہ شمسی توانائی میں لوگوں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ متبادل توانائی میں سرمایہ کاری ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کن ریاستوں اور کن ملکوں میں شمسی پینل تیار کرنے کی صنعتیں قائم ہوں گی۔
جاپان،جرمنی اور چین دنیا بھر میں شمسی توانائی کے پینل تیارکرنے میں سب سے آگے ہیں۔ مسٹر سمتھ کا کہنا ہے کہ امریکی عہدے داروں کو فلوریڈا اور دوسری ریاستوں میں نئے کارخانے کھولنے کے لیے اس شعبے کے ماہرین کو ترغیبات کی فراہمی کے لیے تیزی سے کام کرنا چاہیے۔
سمتھ کہتے ہیں کہ شمسی توانائی کی صنعت کی ترقی سے ماحول اور معیشت، دونوں کو بیک وقت فائدہ پہنچے گا۔