ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

ہیلری کلنٹن مراکش پہنچ گئیں، فلسطین اسرائیل تنازع کے حل کی کوشش

شیئر کیجیئے


امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن مشرق وسطی ٰ اور دنیاکے اہم صنعتی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے مراکش میں ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اپنے اس دورے میں وہ فلسطین اسرائیل تنازع کے حل اور خطے میں جمہوریت کے فروغ کے لیے بات چیت کریں گی۔
مراکش میں منعقد ہونے والے اس چھٹے  فورم میں خطے کے تنازعات کے حل اور جمہوریت کے فروغ کو موضوع بنایا جائے گا۔ کانفرنس  میں مشرق وسطیٰ اور  دنیا کے اہم صنعتی ممالک کے گروپ ایٹ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ وہاں  کی  سول سوسائٹی اور نجی شعبے کی تنظیمیں بھی شرکت کریں گی۔ 
فلسطین اسرائیل کا تنازع ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن مراکش آتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے ساتھ الگ الگ ملاقات کرچکی ہیں۔
فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ فلسطنی اتھارٹی اس وقت تک دوریاستی حل کی مذاکرات میں واپس نہیں آئے گی جب تک اسرائیل متنازع علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع روک نہیں دیتا۔
وزیر خارجہ کلنٹن کا کہنا ہے کہ بستیوں کے تنازع سے مستقبل کے مذاکرات رکنے نہیں چاہیں۔
فلسطینی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ 2003 کے اس  معاہدے سے ، جس میں بستیوں کی تعمیرات کے حوالے سے تمام سرگرمیاں منجمد کرنے کے لیے کیا تھا، اسرائیل کو ان شرائط سے گریز کی اجازت دے رہی ہے۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان آئن کیلی کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ کلنٹن اور امریکہ کے خصوصی سفیر جارج مچل کو توقع ہے کہ وہ مراکش میں ہونے والے اس اجلاس کے ذریعے فلسطین اور اسرائیلی عہدےداروں کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
مراکش اٹلی کے ساتھ، جس کے پاس گروپ جی ایٹ کی باری پر ملنے والی صدارت ہے، مشتر کہ طورپر اس فورم کی میزبانی کررہاہے۔اس دو روزہ کانفرنس میں شرکا کی توجہ  انسانی ترقی،  جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور معاشی ترقی پر مرکوز ہوگی۔

ان مذاکرات میں مغربی کنارے اور  غزہ  کے ساتھ ساتھ  افغانستان، الجیریا، بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت ، لبنان اور لیبیا  کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔
توقع ہے کہ گروپ جی ایٹ کے ممالک کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، روس، اور برطانیہ کے  وفود کےساتھ ساتھ  اومان، پاکستان، قطر، سعودی عرب، شام ، تنزانیہ ، متحدہ عرب امارات  اور یمن کے عہدے دار بھی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔