ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

امریکی معیشت کے لیے دوسرے stimulusپیکج کی ضرورت

شیئر کیجیئے

کیا امریکی معیشت کو طویل انحطاط اور کساد بازاری سے نکالنے کے لیئے  دوسرے stimulus پیکیج کی ضرورت ہوگی؟ اس بارے میں اوباما انتظامیہ کی طرف سے مِلے جُلے اشارے مِل رہے ہیں۔ اقتصادی سرگرمیوں میں جان ڈالنے کے   پہلے stimulus  پیکیج کی مالیت سات سو ستاسی ارب ڈالر تھی اور اس پر صدر اوباما نے  فروری  میں دستخط کیے تھے۔ واشنگٹن میں ڈیموکریٹس  اور ریپبلیکنز دونوں اس پیکیج کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔

 

صدر اوباما کی اقتصادی مشیر، Laura Tyson  نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ امریکی معیشت  کی  بحالی کے لیئے دوسرے  stimulus  پیکیج کی تیاری پر ابھی سے کام شروع کردے تا کہ اگر ضرورت پڑے تو اسے استعمال کیا جا سکے ’’ہماری اقتصادی صورتِ حال  اب بھی بہت غیر یقینی ہے اور حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اقتصادی حالت ہماری توقع سے زیادہ کمزور ہے ۔ ہم کیوں نہ اگلے چند مہینوں میں یہ سوچنا شروع کریں کہ کیا ہمیں  اقتصادی   سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے دوسرے پیکیج کی ضرورت ہوگی، اور اس میں کیا چیزیں شامل کی جانی چاہئیں تا کہ جب ہمیں مزید معلومات مِل جائیں تو ہم پوری طرح تیار ہوں‘‘۔

 Laura Tyson نے یہ باتیں سنگاپور میں ایک کانفرنس میں کہیں۔ اقتصادی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے Tyson  کی تجویز پر  حیرت کا اظہار کیا۔ اس سے دو روز قبل نائب صدرجو بائڈن نے اس تجویز کو کہ اقتصادی بحالی کا دوسرا پیکیج ضروری ہے، کوئی اہمیت نہیں دی تھی اور کہا تھا کہ ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا قبل از وقت ہو گا۔انھوں نے فاکس نیوز  کے ایک ٹیلیویژن پروگرام میں تسلیم کیا کہ جب صدر اوباما نے صدارت کا عہدہ سنبھالا، تو اس وقت انتظامیہ نے اقتصادی انحطاط اور بے روزگاری کی شدت  کے بارے میں غلط اندازہ لگایا تھا۔ لیکن انھوں نے کہا کہ فروری میں  منظور کیا جانے والا stimulus  پیکیج، جو وفاقی حکومت کی طرف سے امریکی معیشت میں جان ڈالنے  اور اسے بحال کرنے کی اب تک سب سے بڑی کوشش تھی، اقتصادی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے  بالکل صحیح اقدام تھا۔
 

سات سو ستاسی ارب ڈالر کے اِس پیکیج میں  اقتصادی ڈھانچے کی بنیادی سہولتوں کی تعمیر کے منصوبے، توانائی کے پراجیکٹس، تعلیمی پروگرام، اقتصادی دشواریوں  سے دوچار ریاستوں کی حکومتوں کے لیئے امداد، اور دو سے تین سال کی مدت میں پھیلے ہوئی ٹیکسوں میں کمی  کے منصوبے شامل ہیں۔


ایوانِ نمائندگان میں اکثریت پارٹی کے لیڈر  Steny Hoyer نے   اقتصادی بحالی  کے  مسودہ ٔ قانون  کی تیاری میں مدد دی تھی .’’میرے خیال میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم اس پیکیج کے اب تک کے نتائج سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اقتصادی سرگرمیوں میں جان ڈالنا انتہائی ضروری تھا۔ stimulus کے قانون میں جو پیسہ رکھا  گیا ہے، ہمیں اسے   حاصل کرنا چاہیے اور اسے خرچ کرنا چاہیے‘‘۔

لیکن وفاقی حکومت سے پیسہ لینے میں وقت لگتا ہے۔ بہت سے قانون ساز جنھوں نے اِس قانون کی حمایت کی تھی، قانون کی منظوری    کے بعد   پیسہ ملنے اور اسے اقتصادی سرگرمیوں پر  خرچ کرنے  میں تاخیر پر  ناراض ہیں۔

ریپبلیکنز کہتے ہیں کہ stimulus  پیکیج کا قانون منظورہوئے چار مہینے سے بھی زیادہ وقت گذر چکا ہے اور بے روزگاری کی شرح میں اب  بھی   مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ شروع ہی سے ناقص تھا۔

ایوانِ نمائندگان میں اقلیتی پارٹی کے لیڈر  John Boehner نے اتوار کے روز فاکس نیوز ٹیلیویژن پر کہا کہ اس stimulus  پلان میں روزگار کے مواقع کی رٹ لگائی گئی تھی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس  سے سوائے پیسہ خرچ کرنے کے اور کچھ  حاصل نہیں ہوا ہے ۔

فروری  میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ معیشت میں جان ڈالنے کے اس منصوبے سے بیس  لاکھ افراد کو یا تو روزگار کے نئے  مواقع ملیں گے یا ان کی ملازمتیں بچا لی جائیں گی۔ کامیابی یا ناکامی کو ثابت کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ اگر یہ stimulus پلان نہ ہوتا تو معیشت اور کتنی زیادہ خراب ہوتی۔ کانگریشنل بجٹ آفس کے سابق ڈائرکٹر  Douglas Holtz-Eakin کہتے ہیں کہ ہمارے لیئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم اعداد وشمار میں اِس پلان کے اثرات کو بیان کر سکیں۔


Bloomberg
ٹیلیویژن پر انھوں نے کہا کہ امریکہ میں بے روزگار ی کی بڑھتی ہوئی شرح سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کی  اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کی صلاحیت محدود ہے ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ انہیں موجودہ stimulus  پیکیج کی افادیت کے بارے میں شبہ ہے اور وہ دوسرے پیکیج کی مخالفت کریں گے ۔ ’’ہمیں ہاتھ روک کر خرچ کرنا چاہیئے اور اس بات کو سمجھنا چاہیئے کہ امریکہ کی مالی حالت خاصی خراب ہے۔ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ یہ سوچے بغیر کہ ہمیں اس سے حاصل کیا ہوگا، پیسہ خرچ کیئے چلےجائیں‘‘۔

بعض دوسرے اقتصادی ماہرین کی دلیل یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب کاروباری ادارے اور صارفین اپنے خرچ میں کمی کر رہے ہیں، صرف وفاقی حکومت ہی ایسا ادارہ ہے جو بڑی مقدار میں پیسہ خرچ کر سکتا ہے، اور اقتصادی سرگرمیوں میں فوری طور پر تیزی لا کر،  معیشت کو کساد  بازاری  سے نکال سکتا ہے۔