’یہ ہنگامے اقتصادی مواقع، ثقافت اور مذہب پر اکثریتی ہان نسل کے چینیوں کے بہت زیادہ کنٹرول کی وجہ سے ایغور مسلمانوں میں بڑھتی ہوئى بے چینی کا نتیجہ ہیں‘
چینی عہدے داروں نے کہا ہے کہ مغربی چین کے خود اختیار علاقے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 156 تک پہنچ گئى ہے۔
چینی عہدے داروں نے ورلڈ ایغور کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان ہنگاموں کو ہوا دے رہی ہے، جن میں اتوار کے روز سے کم سے کم 800 لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس تنظیم کی رہنما ایک ایغور تاجر خاتون ربیعہ قدیر ہیں ، جو ایک چینی جیل میں کئى سال گزارنے کے بعد اب امریکہ میں رہتی ہیں۔
چین کی جلا وطن تنظیموں نے ان ہنگاموں میں ملوّث ہو نے کے الزام کی تردید کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ ہنگامے اقتصادی مواقع، ثقافت اور مذہب پر اکثریتی ہان نسل کے چینیوں کے بہت زیادہ کنٹرول کی وجہ سے ایغور مسلمانوں میں بڑھتی ہوئى بے چینی کا نتیجہ ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان گی مون نے پیر کے روز کہا ہے کہ چین کو چاہیئے کہ وہ تمام اختلافات کو پُر امن طریقے سے مکالمے کے ذریعے حل کرے۔ انہوں نے تمام حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی سلامتی اور جانوں کی حفاظت کریں۔
مسٹر بان نے چین سے سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ تقریر، اجتماع اور اطلاعات کی آزادیوں کو تحفظ فراہم کرے۔