پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ مستعفی ہونے کے بعد چیرمین کرکٹ بورڈ اعجاز بٹ اور ملک گیر سطح پر حمایت کی وجہ سے اُنھیں خاصا حوصلہ ملا ہے اور اب وہ فِٹ ہوکر پاکستانی ٹیم کی قیادت کے لیے تیار ہیں۔
یاد رہے کہ یونس خان نے 13اکتوبر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے سامنے پیشی کو اپنی ذلت قرار دیتے ہوئے کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
یونس خان نے قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیرمین جمشید دستی کی جانب سے سٹے بازی کے الزام پر برہم ہو کر استعفیٰ دیا تھا۔ تاہم چیرمین پی سی بی نے پیر کو یونس خان کا استعفیٰ مسترد کردیا تھا۔
دوسری طرف، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیرمین جمشید دستی نے منگل کو کراچی میں صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی کھلاڑیوں اور عہدے داروں کو طلب کرنے کا استحقاق رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر قائمہ کمیٹی آئندہ بھی ایسا ہی کرتی رہے گی۔
اُنھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں اور عہدے داروں کو طلب کرنا کوئی جرم نہیں اور نہ ہی قائمہ کمیٹی کسی کی بے عزتی کرنا چاہتی ہے۔
جمشید دستی نے کہا کہ پی سی بی کے سرپرستِ اعلیٰ صدر آصف علی زرداری نے اُن کو پی سی بی پر تنقید کرنے سے نہیں روکا۔ اُنھوں نے خیال ظاہر کیا کہ پی سی بی سمیت پاکستان کی تمام کھیلوں کی تنظیموں پر مافیا حاوی ہے اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل پی سی بی کا ڈھانچہ درست کرنے کی کوشش کرتی رہے گی۔
اِسی دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ دورہٴ آسٹریلیا پاکستانی کرکٹروں کا اصل امتحان ثابت ہوگا۔ اُن کے بقول آسٹریلیا میں ہمارا پتا چلے گا کہ ہم کتنے بڑے کرکٹرز ہیں۔
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں کھیلنا اور جیتنا کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھا دیتا ہے، اور کھلاڑی اپنے آپ کو پُر اعتماد محسوس کرتا ہے۔
اُنھوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے اُن کے جارحانہ کھیل کی طرف اشارہ کیا۔ اُن کے بقول مجھے نہیں لگتا کہ ایسے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ مجھے جیت کے حصول میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اِس سال نومبر اور دسمبر میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کھیلے گی۔