پاکستان کرکٹ بورڈ نے سندھ کے وزیر کھیل اور پی سی بی گورننگ باڈی کے رکن ڈاکٹر محمد علی شاہ کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اس بیان کی وضاحت کریںجس میں انھوں نے الزام لگایا ہے کہ چیمپیئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں پاکستانی کھلاڑی کسی طرح میچ فکسنگ میں ملوث نہیں تھے تاہم بھارتی میچ فکسنگ مافیا نے ایمپائروں کے ساتھ ساز باز کرکے نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کو میچ ہروایا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے نوٹس میں صوبائی وزیرکھیل سے کہا ہے کہ وہ تین روز کے اندر جواب دیں کہ ان کے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کیا شواہد موجود ہیں۔
ڈاکٹر محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے ساتھ پاکستان کے میچ میں ایمپائروں کی جانب سے کیے گئے فیصلے غلط تھے جسے سب نے دیکھا ہے اور ان کے بقول اسے ثابت کرنے کے لیے ’’جادوگر‘‘ کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متنازع فیصلے تو منظور ہوسکتے ہیں مگر بے ایمانی پر مبنی فیصلے قبول نہیں کیے جاسکتے۔