پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان شاہد آفریدی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیرمین جمشید دستی کی جانب سے سٹے بازی کے الزامات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
ہفتے کو نامہ نگاروں سے بات چیت میں شاہد آفریدی نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی جیت کی امید باندھے سخت محنت کرتے ہیں، اور ہمت افزائی کی جگہ گالی کے مترادف ایک دو الفاظ اُن کے لیے تشویش کا باعث بن جاتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ کرکٹ کے معاملات ایسے حضرات کے ذمے کرنے چاہئیں جنھیں کرکٹ کی سمجھ ہو۔
شاہد آفریدی نے کہاکہ بغیر ثبوت کے اِس طرح کا الزام لگانے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیئے کہ اِس سے ملک کی بدنامی ہوگی۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیرمین جمشید دستی نے چمپینز ٹرافی میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں سیمی فائنل میں شکست کے بعد الزام لگایا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے حالیہ چمپینز ٹرافی میں آسٹریلیا کے خلاف لیگ میچ اور نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں سٹے بازی کھیلی تھی، جس کے باعث پاکستان یہ دونوں میچ جان بوجھ کر ہار گیا۔
جمشید دستی نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف لیگ میچ آخری بال پر اِس لیے ہارا تاکہ بھارت کو چمپینز ٹرافی کے سیمی فائنل سے خارج کیا جاسکے۔
اِس سلسلے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے 13اکتوبر کو چیرمین پی سی بی اعجاز بٹ، پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف کوچ انتخاب عالم اور پاکستان ٹیم کے کپتان یونس خان کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی براے کھیل کے سامنے وضاحت پیش کرنے کے لیے طلب کیا ہے۔
دریں اثنا پاکستان کرکٹ ٹیم نومبر میں متحدہ عرب امارات میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میچوں کے علاوہ دو ٹونٹی20میچوں پر مشتمل سیریز بھی کھیلے گی۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اِس سیریز میں زخمی کپتان یونس خان کی جگہ نائب کپتان شاہد آفریدی کو قیادت کی ذمے داری سونپی جاسکتی ہے۔