پاکستان سے تعلق رکھنے والے نور علی کا یہ خواب ہے کہ وہ NaSCAR Race میں حصہ لیں۔ وہ اپنے خواب کی تکمیل کے بہت قریب ہیں۔ 2008 میں وہ ARCA REMAX سیریز میں حصہ لینے والے پہلے ایشیائی امریکن ڈرائیور تھے۔ اس سے قبل وہ A1GP CUP میں 2005 سے 2007 تک پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ وہ گذشتہ دس برس سے کارریس کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
کارریس امریکہ کے مقبول کھیلوں میں سے ایک ہے۔ NESCARریس کا آغاز1948 میں ہوا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق ہرسال تقریباً 70 لاکھ افراد یہ ریس دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔ اور 27 کروڑ سے زیادہ افراد اسے آن لائن دیکھتے ہیں۔ امریکہ میں اس کھیل سے سالانہ دو ارب کے لگ بھگ آمدنی ہوتی ہے۔
روائتی امریکی موسیقی، چمڑے کے بوٹوں اور کاؤ بوائے ہیٹ کے حوالے سے مشہور ٹیکساس کاروں کی دوڑ کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں بہت سی اعلیٰ سطح کی کاروں کی دوڑیں ہوتی ہیں۔ جن میں ٹیکساس موٹر پلکس اور ٹیکساس ریس وے شامل ہیں۔ یہاں بہت سے ریس ٹریک بھی موجود ہیں۔ نور علی بھی ٹیکساس میں رہتے ہیں اور وہاں پر علی موٹر سپورٹس کے نام سے ان کا گیراج ہے ،ان کی تیزرفتار گاڑیوں کا شوق۔
نورعلی کہتے ہیں کہ انہیں بچپن سے ہی کاروں میں دلچسپی ہے۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئے اور پھر اپنے والدین کے ساتھ جرمنی چلے گئے۔ ان کے دالد وہاں کپڑے کا کاروبار کرتے تھے اور اس سلسلے میں جرمنی، فرانس اور اٹلی کے درمیان اکثر سفر کرتے تھے۔ ان ممالک کے درمیان ہائی ویز پر رفتار کی کوئی حد نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہی ہائی ویز پر اپنے والد کو گاڑی چلاتے دیکھ کر مجھے کار ریس کا شوق ہوا، یعنی ایسی ریس جس میں رفتار کی کوئی حد نہ ہو۔
نور علی نے واشنگٹن ڈی سی کی امریکن یونیورسٹی سے عالمی تعلقات عامہ میں ڈگری حاصل کی ہے۔ لیکن کار ریس میں حصہ لینا ان کا شوق ہے۔ ان کے والد امریکہ میں کاروبار کرتے ہیں اور ان کے بھائی عمار علی وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ نورعلی کے اس شوق کی تکمیل میں گھر کے سب افراد ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
علی موٹر سپورٹس میں ا رابرٹ کیلی اور ربیکا ولیمز ریس کاڑیوں کی دیکھ بھال اور مقابلوں کی تیاری میں نور علی کے لیے کام کرتے ہیں۔ جبکہ کسی مقابلے میں حصہ لینے کے حوالے معاملات کو عمارعلی دیکھتے ہیں۔