بھارت میں اگلے سال کے کامن ویلتھ گیمز کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں جو دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہوں گے۔ لیکن تیاریوں کے حوالے سے مقامی آرگنائزنگ کمیٹی اور کامن ویلتھ سپورٹس فیڈریشن کے درمیان تنازعات جاری ہیں۔
2010ءکامن ویلتھ گیمز کے مقام بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے اردگرد بڑی بڑی کرینیں، بھاری مشینیں اور سینکڑوں تعمیراتی کارکن کام کررہے ہیں۔ نئی دہلی میں سپورٹس کے نئے احاطے اور سٹیڈیم تعمیر ہورہے ہیں یا ان کی تزئین وآرائش کی جارہی ہے۔ سڑکوں کو کشادہ کیا جارہا ہے، پل بن رہے ہیں اور ہوائی اڈوں کو سنوارا جارہا ہے اور ٹرانسپورٹ کے مقامی نظام توسیع کی جارہی ہے۔
1982ء میں ایشین گیمز کی میزبانی کرنے کے بعدیہ دہلی میں بین الاقوامی کھیلوں کا سب سے بڑا موقع ہوگا۔ کامن ویلتھ گیمز اگلے سال اکتوبر میں منقعدہوں گے اور ان میں تقریباً 70 ایسے ممالک شرکت کریں گے جو ماضی میں برطانوی حکومت کی کالونی رہ چکے ہیں۔
لیکن اس سلسلے میں کئی اہم پراجیکٹس تاخیر کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کو ایک سال سے بھی کم عرصے میں ان کھیلوں کی میزبانی کے لیے تیار ہونے کے سلسلے میں متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔
کھیلوں کے ایک کالم نگار سری وتسا کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بڑے خدشات موجود ہیں کہ کھیلوں کے بہت سے مراکز مشقوں کے مرحلے تک تیار نہیں ہوسکیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوسکا تو ایک دوسرا ایسا بڑا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا جس کا حل بہت مشکل ہوگا۔
اس ماہ کے شروع میں ایک جائزے کے بعد متفکر کامن ویلتھ فیڈریشن نے اعلان کیا کہ وہ تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کے ایک غیر جانب دار پینل کو متعین کرے گا۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ تجربہ کار لوگوں کو انتظام، منصوبہ بندی اور عملی کاموں کے لیے مقرر کیا جانا چاہیئے۔
لیکن یہ منصوبہ بھی تنازعے کا شکار ہوچکاہے کیونکہ بھارتی آرگنائزنگ کمیٹی کا کہناہے کہ اسے کسی پینل کی ضرورت نہیں ہے اور یہ کہ بہت زیادہ کمیٹیاں مقامی منتظمین کے کاموں کو متاثر کریں گی۔
کھیلوں سے متعلق مقامی کمیٹی کے ساتھ کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کے درمیان اس کے بعد سے بھی تلخی پیدا ہوگئی ہے جب مقامی کمیٹی نے نئی دہلی میں گذشتہ دو سال سے تعینات فیڈریشن کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر مائک ہوپر کو واپس بلانے کے لیے کہا تھا۔
مسٹر ہوپر کا کہنا ہے کہ ہمیں مسئلے کے حل کے لیے مل کرکام کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ آپس میں لڑنے جھگڑنے کی۔
ان خدشات کے درمیان کہ دونوں فریقوں میں جاری تلخی سے کام مزید متاثر ہوسکتا ہے، بھارت کے کھیلوں کے وزیر ایم ایس گل نے مداخلت کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن اور بھارتی آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ اختلافات کو دور کرنے کے لیے لندن میں ملاقات کریں گے۔
بھارتی عہدے داروں نے کامن ویلتھ گیمز کو بھارت میں کامیابی سے منعقدکرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم ا متعدد امور میں ہونے والی تاخیر اور تنازعوں سے ان خدشات میں اضافہ ہورہا ہے کہ بھارت کےبارے میں یہ تاثر متاثر ہوسکتا ہے کہ وہ اتنی بڑی سطح کے کھیلوں کے مقابلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔