وفاقی وزیرِ کھیل پیر آفتاب شاہ جیلانی نے کہا ہے کہ یونس خان ہمارے ہیرو ہیں اور قومی کرکٹ کی ٹیم ملک کے نام کی سربلندی کے لیے اپنی بہترین صلاحیتیں پیش کرتی ہے۔ اُنھوں نے یہ بات بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔
یونس خان کی طرف سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے سامنے کپتان کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کے بارے میں سوال پر وزیرِ کھیل نے کہا کہ بلاشبہ کھلاڑی حساس طبقہ ہوتا ہے جِن کی ساری توجہ کھیل پر ہوتی ہے، اور وہ توقع نہیں رکھتے کہ کھیلنے کے بعد وہ پارلیمان کی کسی کمیٹی یا فورم کے سامنے آکر جواب دہی کا سامنا کریں۔
استعفیٰ کے بارے میں پیر آفتاب کا کہنا تھا کہ یونس خان کا یہ ایک جذباتی فیصلہ تھا جو اُن کو نہیں کرنا چاہیئے تھا، کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہی اِن معاملات کا اصل فورم ہے۔ انھوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹی نے یونس خان سے کہا کہ ہمارا ان کی نیت یا حب الوطنی پر شک کا کوئی ارادہ نہیں تھا، وہ ہمارے ہیرو ہیں۔
دوسری طرف، یونس خان نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اُنھیں پاکستان ٹیم کا کپتان برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اُسے اُن کی کچھ شرائط ماننی ہوں گی۔ اِس سلسلے میں لاہور میں یونس خان کے بعض شائقین نے اُن کی حمایت اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیرمین جمشید دستی کی مخالفت میں مظاہرہ کیا۔
اِسی دوران سندھ اور صوبہٴ سرحد کی صوبائی اسمبلیوں کے بعض اراکین نے آسٹریلیائی ایمپائر سائمن ٹوفل پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اُن کے بقول، سائمن کے غلط فیصلے کی وجہ سے پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یاد رہے کہ یونس خان نے منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے سامنے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔