اقوام متحدہ نے سلامتی کے خدشات کے پیش نظراپنے سینکڑوں غیر ملکی اہلکاروں کو عارضی طور پر افغانستان سے باہر منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ عالمی ادارے کے ترجمان علیم صدیقی نے بتایا ہے کہ اس وقت ملک میں غیرملکی سٹاف کی تعداد لگ بھگ 1100 ہے۔ 600 میں سے کچھ کو افغانستان کے اندر محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں اور دیگر کو ملک سے باہر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے کابل میں اس کے ایک گیسٹ ہاؤس پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد کیا ہے جس میں ادارے کے پانچ غیرملکی ملازمین ہلاک ہوگئے تھے۔
عالمی تنظیم کے اس اقدام کو افغانستان میں استحکام لانے کی بین الا اقوامی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جار رہا ہے لیکن کابل میں اقوام متحدہ کے ترجمان نے تمام منصوبوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی عملے کی ملک سے عارضی طور پر باہر منتقلی سے امدادی کارروائیا ں متاثر نہیں ہوں گی۔ انھوں نے ادارے کے گیسٹ ہاؤس پر عسکریت پسندوں کے حملے کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے ہفتے ہونے والے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے امدادی پروگراموں کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا اقوام متحدہ کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان میں اگست کے صدارتی انتخابات کے انعقاد میں اقوام متحدہ نے کلیدی کردار ادا کیاجب کہ اس کے ذیلی ادارے خصوصاََUNICEFکی سرپرستی میں ملک بھر میں صحت، تعلیم اور دوسرے ایسے اہم منصوبوں پر کام جاری ہے۔